طیارہ حادثہ، بچ جانے والے مسافر 72 روز تک اپنے مردہ ساتھیوں کا گوشت کھاتے رہے

Flight incident
01اگست2022

ویب ڈیسک: ( اردو گرام آنلائن ) عمومی طور پر یہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب کسی ہوائی جہاز کو حادثہ پیش آتا ہے  تو اس میں موجود تمام افراد ہلاک ہوجاتے ہیں، اکا دکا واقعات ایسے ہوتے ہیں جن میں جہاز کے حادثے میں کوئی زندہ بچ جائے، ایسی ایک مثال 2020 میں  پاکستان میں پیش آنے والے فلائٹ پی کے 803  کے حادثے میں بھی دیکھنے کو ملی تھی جب پنجاب بینک کے سربراہ  ظفر  مسعود  اس حادثے میں محفوظ رہے تھے۔

تاریخ میں جہاز کے حادثے کا ایک واقعہ ایسا ہے جس میں بہت سے لوگ نہ صرف زندہ بچ گئے تھے   بلکہ 72 روز تک زندہ رہے اور آخر کار ریسکیو کرلیے گئے،  ان لوگوں نے زندہ رہنے کیلئے ایسا خوفناک طریقہ اپنایا تھا کہ سن  کر ہی روح کانپ جائے

یہ کہانی ہے یوراگوئے کی فلائٹ 571 کی جس کو 1972 میں ارجنٹینا میں حادثہ پیش آیا تھا۔ جہاز کو حادثہ خراب موسم اور ناتجربہ کار کو پائلٹ کو قرار دیا گیا جو ٹھیک طرح سے ریڈنگز نہیں پڑھ سکا جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ طیارے میں 40 افراد سوار تھے جن میں سے 19 کا تعلق کرسچن کلب رگبی یونین کی ٹیم سے تھا ۔ حادثہ 13 اکتوبر 1972 کو پیش آیا تھا جب کہ 72 دن بعد 23 دسمبر 1972 کو جہاز کو تلاش کیا گیا، اس وقت 40 میں صرف 16 افراد ہی زندہ بچے تھے جنہوں نے اپنے مردہ ساتھیوں کا گوشت کھا کر خود کو زندہ رکھا۔

اس بدقسمت طیارے کو حادثہ ایک پہاڑی سلسلے میں پیش آیا تھا جہاں دور دور تک پہاڑ ہی پہاڑ تھے، زندہ بچ جانے والے روبیرتو کنیسا، نندو پرادو اور انتونیو وزنتن 10 روز تک پہاڑوں میں گھومتے اور مدد کا کوئی ذریعہ تلاش کرنے کی تگ و دو میں لگے رہے لیکن کہیں سے بچنے کی کوئی صورت نظر نہ آئی۔

اس کے بعد ہوزے لوئس نے انوکھی تجویز دی اور زندہ بچ جانے والوں کو مشورہ دیا کہ اگر زندہ رہنا ہے تو اس کا بس ایک ہی راستہ ہے کہ ہم اپنے مردہ ساتھیوں کو کھائیں، اس تجویز سے الفریڈو ڈیلگاڈو نے بھی اتفاق کیا۔

الفریڈو کے مطابق طیارہ حادثے میں زندہ بچ جانے والوں نے آدم خوری کے معاملے پر ایک میٹنگ کی اور اس معاملے پر بحث کی کہ یہ انتہائی قدم اٹھانا چاہیے یا نہیں، کیونکہ یہ آخری آپشن استعمال نہیں کیا جاتا تو پھر سب کیلئے موت ہے۔ اس کے بعد سب سے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ وہ اپنے مردہ ساتھیوں کا گوشت کھا کر زندہ رہیں گے۔

Facebook Comments