جرمنی نے کورونا کی تشخیص کیلئے کتوں کو تربیت دے دی! حیرت انگیز نتائج

Dogs that Diagnose Corona
30جولائی2020
(فوٹو : فائل)

ویب ڈیسک: (میونخ) جرمن سائنسدانوں نے سراغ رساں کتوں کو اس انداز سے تربیت دی ہے کہ وہ کسی شخص سے لیے گئے نمونے کو صرف سونگھ کر بتا سکتے ہیں کہ اس میں کورونا وائرس موجود ہے یا نہیں۔ کورونا وائرس کا سراغ لگانے میں ان کتوں کی کارکردگی 94 فیصد ہے۔

اوپن ایکسس ریسرچ جرنل ’’بی ایم سی انفیکشس ڈزیزز‘‘ کے تازہ آن لائن شمارے میں جرمنی کی ہینوور یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک پائلٹ اسٹڈی شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 8 سراغ رساں کتوں کو اضافی طور پر کورونا وائرس سے متاثرہ نمونوں کو سونگھ کر شناخت کرنے کیلئے ایک ہفتے تک تربیت دی گئی۔

اس دوران انہیں لعابِ دہن (تھوک) اور پھیپھڑوں میں سے لیے گئے لعاب کے 1,012 نمونے سنگھا کر کورونا وائرس کی موجودگی کی شناخت کرنے کے قابل بنایا گیا۔

اگلے مرحلے میں آزمائش کی غرض سے ان کے سامنے کئی ایسے نمونے رکھے گئے جن میں سے کچھ صحت مند تھے اور کچھ ناول کورونا وائرس سے متاثرہ تھے۔ خود اس تجربے میں شریک افراد کو بھی ان نمونوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم نہ تھا کہ وہ کورونا وائرس سے متاثرہ ہیں یا غیر متاثرہ۔

کتوں کی کارکردگی حیرت انگیز رہی کیونکہ آزمائش میں انہوں نے 1,012 نمونوں میں سے 949 کو بالکل درست طور پر شناخت کیا اور اس طرح صرف سونگھ کر کورونا وائرس کا سراغ لگانے میں ان کی کارکردگی 94 فیصد رہی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ کتے انسانی خون کی بو سونگھ کر پھیپھڑوں کی خطرناک بیماری کی تشخیص کرنے میں کامیاب

واضح رہے کہ حساس مقامات، بالخصوص ہوائی اڈوں پر کتوں کی مدد سے پوشیدہ دھماکا خیز مواد اور منشیات کا پتہ لگانا آج ایک معمول کی بات ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ ایک کتا لاؤ 200 روپے انعام پاؤ، خیبر پختونخوا حکومت کی انوکھی پیشکش

کتوں میں سونگھنے کی اسی حیرت انگیز اور غیرمعمولی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب طبّی ماہرین نے بھی کوششیں شروع کر دی ہیں کہ ان کی مدد سے کینسر اور ملیریا سمیت کئی بیماریوں کو بھی صرف سونگھ کر شناخت کیا جا سکے کیونکہ اس سے وقت اور سرمائے، دونوں کی بہت بچت ہو گی۔

تاہم اب تک کتوں کے ذریعے بیماریوں کی تشخیص باضابطہ طور پر اختیار نہیں کی جا سکی ہے۔ جرمن ماہرین کی کوشش بھی اگرچہ امید افزا ہے لیکن ابھی اس کے وسیع تر پیمانے پر استعمال میں کئی دوسری پیچیدگیوں کا حل کرنا ضروری ہے۔

Facebook Comments