کیا کرسیاں اور میز بھی زمین میں اُگائے جا سکتے ہیں ؟

Chair Field
03اکتوبر2019
(تصاویر بحوالہ: فُل گرون)

ویب ڈیسک: (لندن) یہ ڈربی شائر، وسطی برطانیہ میں صرف دو ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا کھیت ہے جہاں اس وقت 250 کرسیاں، 100 لیمپ اور 50 میزیں ’’اُگائی‘‘ جارہی ہیں۔

البتہ یہ ’’قدرتی فرنیچر‘‘ بہت مہنگا ہے جس میں صرف ایک کرسی کی قیمت 12 ہزار ڈالر (تقریباً 19 لاکھ پاکستانی روپے) جبکہ چھوٹے سے لیمپ کی قیمت بھی 1120 ڈالر (تقریباً 1 لاکھ 75 ہزار روپے) رکھی گئی ہے۔ اتنا مہنگا ہونے کے باوجود ماحول دوست صارفین اسے آن لائن خرید رہے ہیں۔

فرنیچر کا یہ کھیت 2012 میں ایک برطانوی جوڑے گیون منرو اور ایلس منرو نے شروع کیا تھا جس کا مقصد فرنیچر کی تیاری میں درخت کاٹنے کے عمل سے بچنا تھا۔

اس اچھوتے کھیت کا خیال گیون منرو کو برسوں پہلے آیا۔ ہوا یوں کہ بچپن میں ان کی ریڑھ کی ہڈی میں خم تھا جسے دور کرنے کےلیے انہیں مسلسل کئی سال تک دھاتی سہارے پہننے پڑے جو ان کی کمر کو سیدھا رکھتے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: مفت خور چور نے ایسا کام کر دیا جو شائد ہی کسی نے کیا ہو

بڑے ہونے کے بعد انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ اسی طرح پودوں کو اگاتے وقت ان کے ساتھ بھی کچھ سانچے لگا دیئے جائیں جو بڑھتے اور پھیلتے پودوں کو ایک خاص شکل میں لے آئیں۔ اگرچہ اس میں وقت تو لگے گا لیکن چند ماہ یا چند سال میں بڑے اور مضبوط ہو جانے پر وہ پودے بھی مطلوبہ ساخت اختیار کرچکے ہوں گے۔

جب انہوں نے چند سال تک اپنے اس خیال کو آزمایا تو کامیابی حاصل ہوئی۔ اس طرح کھیت میں اگائے جانے والے فرنیچر کو صرف آخری مرحلے میں تھوڑی بہت تراش خراش کی ضرورت پڑی اور وہ استعمال کےلیے تیار ہوگیا۔

شادی کے بعد ایلس بھی ان کے کام میں شریک ہوگئیں اور دونوں نے مل کر ’’فل گرون‘‘ کے نام سے ایک کمپنی شروع کردی جو ہر گزرنے والے سال کے ساتھ مقبول ہوتی جارہی ہے۔ اپنی حالیہ کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے انہیں امید ہے کہ 2022 تک ان کے پاس فرنیچر کاشت کرنے کےلیے زیادہ بڑا کھیت ہوگا جہاں وہ سالانہ بنیادوں پر میزیں اور کرسیاں اُگایا کریں گے۔

Facebook Comments