امریکی قیدی کی سزائے موت لیکن عمل درآمد سے پہلے آخری بار کیا چیز کھانے کی فرمائش کردی

Prisoner
23اپریل2022
( فوٹو: انٹرنیٹ )

ویب ڈیسک: ( نیو یارک ) امریکہ میں سزائے موت کے ایک قیدی کی سزا پر عملدرآمد سے پہلے اسے اس کا مند پسند کھانا آخری بار کھلایا گیا اور جب وہ کھانا کھا چکا تو معجزاتی طور پر اس کی سزا پر عملدرآمد روک دیا گیا۔

ڈیلی سٹار کے مطابق اس 72سالہ قید کا نام آسکر سمتھ ہے جس نے یکم اکتوبر1989ءکو امریکی ریاست ٹینیسی کے شہر نیشوائل میں اپنی بیوی جوڈی سمتھ اور دوبیٹوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

اس کا بیٹا جیسن برنیٹ 13سال کا اور چاڈ برنیٹ 16سال کا تھا۔ جوڈی شوہر سے روٹھ کر بچوں سمیت الگ رہنے لگی تھی اور واردات کے روز ملزم نے ان کے گھر میں گھس کر تینوں کو قتل کیا تھا۔ گزشتہ روز اس کی سزا پر عملدرآمد ہونا طے پایا اور اسے آخری کھانے کے بارے میں پوچھا گیا۔ اس نے ڈبل چیز برگر، ایپل پائی اور ونیلا بین آئس کریم و دیگر اشیاءکھانے کی فرمائش کی۔ اسے یہ چیزیں مہیا کر دی گئیں تاہم جب وہ کھانا کھا چکا تو اسے اطلاع دے دی گئی کہ اس کی سزا پر عملدرآمد موخر کر دیا گیا ہے۔ گورنر بل لی نے بتایا ہے کہ جو زہریلا انجکشن لگا کر قیدی کو سزائے موت دی جانی تھی اس کے حوالے سے تیاری ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔

Facebook Comments