نریندر مودی پچھلے جنم میں ہندوستان کے عظیم سیاسی و مسلم رہنما تھے

Narendra Modi
27جون2019
(فوٹو اسکرول)

ویب ڈیسک: (نئی دہلی) کیا آپ کو پتہ ہے کہ نریندر مودی کا یہ دوسرا جنم ہے اور وہ اپنے ہہلے جنم میں عظیم مسلمان رہنما سر سید احمد خان تھے جنہوں نے انگریزوں سے بغاوت کرتے ہوئے سب سے پہلے ایک الگ ملک کا نعرہ بلند کیا تھا۔

جی ہاں، بھارتی ٹی وی چینل کے مطابق نریندر مودی کا یہ دوسرا جنم ہے اور وہ اپنے پہلے جنم میں مسلمان مفکر اور آزادی ہند کے عظیم رہنما سر سید احمد خان تھے۔ بھارتی ٹی وی کے حیران کن انکشاف کے مطابق نریندر مودی اس جنم سے نہیں بلکہ پچھلے جنم سے عظیم ہندوستان بنانے کے لیے مصروف عمل ہیں اور انہوں نے اپنے پہلے جنم میں بھی دن رات ایک کر کے قوم اور ملک کی خدمت کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس بات کا علم خود نریندر مودی کو ہی نہیں کہ وہ پچھلے جنم میں سر سید احمد خان تھے۔ بھارتی ٹی وی نے برصغیر کے عظیم سیاسی رہنما سر سید احمد خان کو کٹر مسلم قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کا اعتراف بھی کیا اور بتایا کہ پچھلے جنم کے کٹر مسلم اس جنم میں ہندوستان کے عظیم رہنما ہیں۔

بھارتی ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ نریندر مودی کے دوسرے جنم کا انکشاف وہ نہیں بلکہ امریکا کے ایک تحقیقاتی ادارے ’انسٹی ٹیوٹ فار دی انٹی گریشن آف سائنس، انٹیوشن اینڈ اسپرٹ ( آئی آئی ایس آئی ایس) نے کیا ہے۔ اسی ادارے نے نریندر مودی سمیت دنیا بھر کے 20 ہزار افراد کے دوبارہ جنم لینے کے معاملے پر تحقیقات کی ہے جب کہ یہی ادارہ جانوروں پر بھی تحقیق کر چکا ہے۔

اگر نریندر مودی نے بھارتی انتخابات میں دوبارہ کامیابی حاصل کی ہے اور وہ ایک عظیم رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں تو اس کا کریڈٹ بھی ان کے پچھلے جنم کو جاتا ہے۔ رپورٹ میں دلیل دی گئی ہے کہ انسان کے دوبارہ جنم لینے پر بھی ان کے پچھلے جنم کی عادتیں ان میں آجاتی ہیں اور چوں کہ نریندر مودی پچھلے جنم میں عظیم رہنما سر سید احمد خان تھے تو اس لیے وہ اس جنم میں بھی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے مودی کے دوبارہ اقتدار میں آتے ہی مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ شروع ہو گیا

خیال رہے کہ سر سید احمد متحدہ ہندوستان کے عظیم سیاسی و مسلم رہنما تھے، انہوں نے ہی برصغیر میں مسلمانوں کی بہتری کے لیے پہلا تعلیمی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تعمیر کیا تھا۔ سر سید احمد خان کو دو قومی نظریے کا بانی بھی تصور کیا جاتا ہے، ان کا شمار 19 ویں صدی کے عظیم فلسفیوں اور سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

سر سید احمد خان نے ولایت سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہندوستان پر قابض ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت بھی اختیار کی تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے اس کمپنی سے علیحدگی اختیار کرکے جنگ آزادی کے بعد ایک عظیم رہنما کا کردار ادا کیا۔ وہ 1898 میں وفات پاگئے تھے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہندو ازم کے عقیدے کے مطابق انسان کا دوسرا جنم ہوتا ہے۔

Facebook Comments