مرد و خواتین کا تقریبات میں ایک ساتھ کھانا حرام کیوں قرار دیا گیا؟

21دسمبر2018
(فوٹو بلاگ ڈاٹ شادی ڈاٹ کو)

ویب ڈیسک : (مظفر نگر) بھارتی ریاست اُترپردیش کے شہر مظفر نگر میں قائم مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے مفتیانِ کرام نے فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا کہ شادی بیاہ کی تقریبات میں مردوں اور عورتوں کا ایک ساتھ کھا نا کھانا فعلِ حرام ہے۔

علمائے دارالعلوم دیوبند نے ایک مسئلے کی روشنی میں فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مرد وخواتین کا اجتماعی طور پر ایک جگہ جمع ہوکر کھانا کھانا گناہ اور ناجائز عمل ہے اس لئے مسلمان اس سے بچیں۔

فتویٰ میںیہ بھی کہا گیا ہے کہ محفل میں خواتین کے بیٹھنے کا الگ انتظام کیا جانا چاہیے اور وہاں کسی غیر محرم
کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

دارالعلوم دیوبند مظفر نگر کے سینئر مفتی نے تحریر ی فتویٰ پڑھ کر سنایا اور دیگر مفتیانِ کرام کو نصیحت کی کہ وہ شریعت کی روشنی میں امتِ مسلمہ کو اس مسئلے کی اہمیت سے روشناس کرائیں۔

خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والے سرکاری ادارے کی چیئرپرسن ریکھا شرما کا کہنا ہے کہ یہ فتویٰ ناقابلِ قبول ہے۔

قبل ازیں مفتیانِ کرام نے5نومبر2018ء کو خواتین کے نیل پالش لگا کر نماز پڑھنے کے حوالے سے فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا تھاکہ خواتین کا مہندی یا نیل پالش لگا نا غیر شرعی عمل ہے۔فتویٰ میں یہ بات سامنے آئی کہ اسلام میں ناخنوں پر نیل پالش لگانے کی اس لئے ممانعت ہے کیونکہ وضو کا پانی ناخنوں تک نہیں پہنچ پاتااور اس وجہ سے نما ز نہیں ہوتی ۔

رواں برس دارالعلوم دیوبند نے ایک فتویٰ جاری کیا تھا جسمیں یہ کہا گیا کہ خواتین فٹ بال میچ نہیں دیکھ سکتیں کیونکہ کھلاڑیوں کے لباس غیر شرعی ہوتے ہیں ، اس کے علاوہ عورتوں کے بال کٹوانے اور آئی بروز بنوانے کو بھی غیر اسلامی عمل قرار دیا جا چکا ہے۔

Facebook Comments