سپریم کورٹ آف پاکستان نے مرغی چور کی ضمانت کیوں مسترد کی ؟ وجہ انتہائی دلچسپ

Supreme Court Of Pakistan
04مارچ2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک : (اسلام آباد ) عدالتِ عالیہ کے دو رکنی بینچ نے چوری کے الزام میں گرفتار ملزم زاہد کی ضمانت کیلئے دائر درخواست کی سماعت کی ۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں کیس کی سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ ملزم چار مقدمات میں پہلے ہی سزایافتہ ہے ، اور اس کے قبضے سے ڈسپنسر ، ایل سی ڈی ،کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، جیولری اور دیگر اشیاء برآمد ہوئی ہیں، جبکہ اس کے علاوہ ملزم کے قبضے سے نقب زنی کے آلات بھی برآمد کئے گئے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا موکل کام کیا کرتاہے جس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ مزدور پیشہ ہے۔

وکیل کے جواب پر عدالت نے پوچھا کہ کیا پولیس کو آپ کے موکل سے ذاتی رنجش ہے جو اُسے بلا سبب ہی نامزد کر دیایا پولیس نے یہ ساری چیزیں بازار سے خرید کر برآمد کرائی ہیں۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے گھر سے آدھا ٹرک چوری کا مال برآمد کیا گیا ہے ۔

پولیس کے موقف پر عدالت نے کہا کہ اخبار میں توخبر ’’مرغی چور ‘‘کی لگوائی گئی تھی اور ملزم کے گھر سے آدھا ٹرک مال برآمد ہوا ہے ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اخبارات میں ایسی خبریں دیکھ کر لوگ چونک جاتے ہیں اور جب کیس سامنے آتاہے تو معاملہ کچھ اور ہی نکل آتا ہے۔

عدالت نے ملزم زائد کی جانب سے دائرضمانت کی درخواست کو مستر د کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو معاملہ تین ماہ میں نپٹانے کا حکم صادر کر دیا۔

Facebook Comments