زیبرا کے جسم پر سیاہ و سفید پٹیاں کیوں ہوتی ہیں ؟ برسوں پرانا معمہ حل ہو گیا

03مارچ2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک : (سان فرانسسکو) ماہرین کے مطابق زیبرا کے جسم پر سیاہ و سفید پٹیاں اسے مکھیوں اور دوسرے حشرات الارض کے کاٹنے سے محفوظ رکھتی ہیں جن کے کاٹنے سے وہ بیمار ہوسکتا ہے۔

یونیورسٹی آ ف کیلیفورنیا کے سائنسدان ڈیوس اور یونیورسٹی آف برسٹل کے سائنسدان مارٹن باؤ نے ایک مشترکہ تحقیق کرنے کے بعد بتایا کہ زیبرا کی پٹیاں اُسے مکھیوں کے حملے سے تحفظ فراہم کرتی ہے تاہم افریقی علاقوں میں مکھیوں اور دیگر حشرات کے کاٹنے سے زیبرا کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے ۔

تحقیق کے مطابق زیبرا میں یہ تبدیلی لاکھوں برس میں پیدا ہوئی اور دورنگی سیاہ و سفید دھاریاں نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں۔

تقریباً 150 سال قبل ممتاز ماہر حیاتیات ایلفرڈرسل ویلس اور چارلس ڈارون اس مسئلے پر غور کر چکے ہیں تاہم وہ تسلی بخش جواب تلاش کرنے میں قاصر رہے ۔

زیبرا کی پٹیوں پر ہمیشہ سے چار مفروضے پیش کئے جاتے رہے ہیں جن میں سے تین کو ذیل میں بیان کیا جا رہا ہے۔

اول:

زیبرا ان پٹیوں کی وجہ سے اپنے سے بڑے جانوروں کے حملے سے بچے رہتے ہیں۔

دوئم :

زیبرا کے جسم پر موجود یہ سیاہ و سفید پٹیاں اُنہیں گرمی کی شدت سے محفوظ رکھتی ہیں۔

سوئم :

زیبرا ان پٹیوں کی وجہ سے مختلف انواع و اقسام کے کیڑے مکوڑوں کے حملوں سے محفوظ رہتے ہیں۔

برطانیہ میں ماہرین نے ایک اصطبل میں گھوڑوں اور زیبروں پر مکھیوں کی بڑی تعداد چھوڑی ، حیرت انگیز طور پر گھوڑوں کے مقابلے زیبروں پر مکھیاں کم تھیں۔ اس سارے عمل کی ویڈیو کو جب سلوموشن میں دیکھا گیا تو پتہ چلا کہ زیبروں کے قریب ہونے پر مکھیوں کی رفتار سست ہوگئی اور وہ کاٹنے سے بھی گریز کرنے لگیں۔

اگلے مرحلے میں ماہرین نے گھوڑوں پر سیاہ وسفید پٹیوں والی چادریں ڈالیں تو حیران کن طورپر مکھیوں نے گھوڑوں کے قریب جانے سے بھی گریز کیا۔اس کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ زیبرا کے جسم پر موجود دھاریاں اسے مضر کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔

Facebook Comments