مون سون میں‌ بیماریوں‌ کا خطرہ دوگنا کیوں‌ ہو جاتا ہے؟

Why does the risk of diseases double in the monsoon?
14اگست2020
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: ایک تحقیق کے مطابق کسی بھی دوسرے موسم کے مقابلے میں مون سون کے موسم میں وائرل انفیکشن کے ہونے کا خطرہ دگنا ہو جاتا ہے۔ ہوا میں نمی کی زیادہ مقدار بیکٹیریا اورانفیکشن کو پنپنے میں مدد دیتی ہے۔

ایسے ہی پانچ انفیکشنزہیں جن کا مون سون کے موسم میں زیادہ پنپنے کا خدشہ ہوتا ہے جس سے انسان جلدی متاثربھی ہو جاتے ہیں۔

ڈائیریا

مون سون کے موسم میں اگرکھانے پینے کی اشیاء کو مناسب طریقے سے نہ رکھا گیا ہو تو ان میں جراثیم پیدا ہوتے ہیں جو ڈائیریا کا سبب بنتے ہیں۔ اس انفیکشن کے بچاؤ کا طریقہ ہے کہ گھرکا پکا ہوا کھانا کھایا جائے اور کھانے میں کسی بھی فنگس یا کیڑے کی جانچ پڑتال کی جائے، ساتھ ہی ساتھ کھانا پکانے سے پہلے سبزیوں اور پھلوں کواچھی طرح پانی سے دھویا جائے۔

ہیضہ

یہ پانی سے پیدا ہونے والا انفیکشن ہے اورمون سون کے موسم میں یہ عام ہو جاتا ہے۔ اس سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جسم میں پانی کی مقداربڑھانے کے لیے ہائیڈریٹڈ رہیئے جب کہ صاف ستھرا کھانا کھانے سے اس انفیکشن سے بچا جا سکتا ہے۔

سردی اورفلو

اس سیزن کے دوران وائرل ہونے والی عام بیماریوں میں سے ایک سردی اور فلو ہے۔ اس موسم میں ہم سب کم ازکم ایک بار یا اس سے بھی زیادہ بیمار ہو جاتے ہیں۔ اس سے بچاؤ کا طریقہ ہے کہ سردی اور فلو والے لوگوں سے براہ راست رابطہ نہ رکھیں۔ اگر خاندان کے کسی فرد کو یہ انفیکشن ہوبھی جاتا ہے تو اس فرد کو علیحدہ تولیا اوربرتن استعمال کرنے چاہیئں جب کہ ہاتھ بھی کثرت سے دھونے چاہیئں۔

ٹائیفائیڈ

ٹائیفائیڈ بخارسالمونیلا ٹائفی کی وجہ سے ہونے والی ایک بیکٹیریل بیماری ہے اور مون سون کے موسم میں یہ عام ہو جاتا ہے۔ یہ بیماری بخارکا سبب بن سکتی ہے جب کہ جلد کو زرد اورجگر کو متاثر کرتی ہے۔ اس سے بچاؤ کا طریقہ ہے کہ صاف پانی پیا جائے اورباہرسے پانی پر مبنی کھلا کوئی بھی مشروب نہ پیا جائے۔

ڈینگی

موسلا دھاربارش سے پانی جمع ہوجاتا ہے جومچھروں کے لئے بہترین نسل کا کام کرتا ہے۔ اس سے بچاؤ کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے گھرکے گردونواح میں کہیں بھی بارش کا پانی جمع نہ ہونے دیں اس کے ساتھ ساتھ پوری آستین والے کپڑے پہننا بھی اپنے آپ کومچھر سے بچانے کے آسان طریقے ہیں۔

رپورٹ: بشکریہ ایکسپریس

Facebook Comments