کونسا بلڈ گروپ کوویڈ 19 کا آسان ہدف ہے؟ نئی تحقیق سامنے آ گئی

Blood Group Types
20جون2020
(فوٹو : فائل)

ویب ڈیسک: (برسلز) یورپ کے تحقیقی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ بلڈ گروپ اے والے افراد کورونا وائرس کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپ سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے ماہرین کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس سے متاثر ہونے والے افراد کے حوالے سے تحقیق کر رہے ہیں تاکہ وبا کو کسی صورت قابو کیا جا سکے۔

سائنسدانوں نے مختلف تحقیقات کی طرح اس بات پر بھی تحقیق کی ہے کہ کورونا وائرس کون سے بلڈ گروپ کے افراد کو تیزی سے شکار بنا رہا ہے۔

بائیو ٹیکنالوجی کی ٹیسٹنگ کمپنی ’23 اینڈ می‘ کی ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انسانی جین میں ایسا فرق پایا گیا ہے جو خون کو متاثر کرتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان کووڈ 19 کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کرونا کے حوالے سے جینیاتی عوام پر بھی تحقیق کر رہے ہیں جس کا بنیادی مقصد اس بات کو معلوم کرنا ہے کہ کچھ افراد بغیر علامات کے کورونا کا شکار کیسے ہو جاتے ہیں اور جن میں علامات ظاہر ہوتی ہیں وہ شدید بیمار کیوں ہوتے ہیں۔

بائیو ٹیکنالوجی کمپنی نے رواں برس اپریل میں مطالعے کا آغاز کیا جس میں مریضوں کے بلڈ گروپ کے حوالے سے تفصیلات جمع کی گئیں اور لاکھوں افراد کی ڈی این اے پروفائل بھی استعمال کی گئی تاکہ جینیات کے کردار کا معلوم ہو سکے۔

تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ بلڈ گروپ O کے حامل افراد کورونا سے سب سے کم متاثر ہوئے جبکہ B اور AB پازیٹیو گروپ کے حامل افراد زیادہ متاثر ہوئے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ طبی ماہرین نے ڈیکسا میتھاسون کو کورونا کے خلاف مؤثر دوا قرار دے دیا

تحقیق کے مطابق بلڈ گروپ O والے افراد دوسرے گروپوں کے مقابلے میں کورونا وائرس سے زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ اس کا دوسرے گروپس کے مقابلے میں 9 سے 18 فیصد تک امکان کم ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا کووِڈ-19 کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آئے گا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ پاکستان میں‌ کورونا کے 80 فیصد مریض پلازمہ تھراپی سے صحت یاب ہو رہے ہیں، ڈاکٹر طاہر شمسی

تحقیق سے معلوم ہوا کہ B اور AB کے حامل افراد میں کورونا وائرس کا شکار ہونے کے زیادہ امکانات ہیں کیونکہ B اور AB میں کووِڈ-19 کے مثبت ٹیسٹ کی شرح سب سے زیادہ دیکھی گئی ہے جب کہ بلڈ گروپ A والے ان دونوں کے درمیان ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں‌ کو کورونا کی تشخیص کے بعد کیا کرنا چاہیے؟

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ایندرے فرینک کا کہنا تھا کہ ’اے بلڈ گروپ کے حامل افراد میں کورونا کا خظرہ 45 فیصد زیادہ بڑھ جاتا ہے جبکہ او گروپ والے افراد میں کورونا کا خدشہ 35 فیصد کم ہوجاتا ہے‘۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ کیا واقعی کورونا کا زور ٹوٹ رہا ہے؟

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج کیلئے عمر، صنف، جسمانی انڈیکس اور نسلی شناخت کے عوامل کو خاص طور پر مد نظر رکھا گیا۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بلڈ گروپ B نیگیٹو یا B پازیٹو ہے تو ایسے افراد کے کورونا کا شکار ہونے کی شرح میں کوئی نمایاں فرق نہیں دیکھا گیا۔

Facebook Comments