سینی ٹائزرز کے استعمال سے مرگی کے دورے پڑ سکتے ہیں

24جون2020
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (واشنگٹن) امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ہینڈ سینی ٹائزر کے اندھا دھند استعمال پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ہی قسم کے سینی ٹائزر مفید نہیں ہوتے بلکہ کچھ مضر صحت بھی ہوتے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ملک میں زیر استعمال ایک میکسیکن کمپنی کے 9 سینی ٹائزرز کو غیر معیاری قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کر دی ہے اور کمپنی کو تمام اسٹاک 17 جون تک واپس اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سینی ٹائزرز ہاتھوں میں خارش اور آنکھوں میں جلن کا سبب بننے لگے

ایف ڈی اے نے ان پروڈکٹس میں میتھانول کی موجودگی کا انکشاف کرتے ہوئے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جن سینی ٹائزرز میں میتھانول کا بے دریغ استعمال کیا گیا ہو اس سے متلی، الٹی، سر درد، دھندلا دکھنا، بینائی کا کھو جانا، مرگی کے دورے اور کوما ہو سکتا ہے اور اعصابی نظام پر شدید مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: کورونا وائرس سے بچنے کیلئے لوگ اب اس کمپنی کے سینیٹائزر بھی خرید رہے ہیں! سوچیئے

ایکسپریس نیوز کے مطابق کورونا وائرس وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں ہینڈ سینی ٹائزر کی فروخت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے تاہم پروڈکٹ استعمال کرنے سے قبل صارفین اس میں شامل اجزا اور ان کے تناسب کو نہیں پڑھتے اور نقصان اٹھا لیتے ہیں۔ سینی ٹائزر ہمیشہ اچھی اور قابل بھروسہ کمپنی کا خریدیں اور کوشش کریں سینی ٹائزر صرف وہاں استعمال کریں جہاں ہاتھوں کو بیس سیکنڈ تک دھونے کے لیے صابن دستیاب نہ ہوں۔

میکسین کمپنی کی جانب سے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی پابندی سے متعلق کسی قسم کا بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

Facebook Comments