پاکستان میں ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے مرض سے کیسے جان چھڑائی جائے؟ ماہرین نے بتا دیا

Diabetes
11جنوری2020
(فوٹو : اسٹاک امیج)

ویب ڈیسک: (لاہور) خطرناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں ہر 4 میں سے ایک شخص ذیابیطس کا شکار ہے، ماہرین کی تجویز ہے کہ والدین 5 سال کی عمر سے ہی بچوں کو فاسٹ فوڈ اور سوڈا مشروبات سے دور رکھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 20 سال یا اس سے بڑی عمر کا ہر چوتھا فرد ٹائپ 1 ذیابیطس کا شکار ہے۔ ذیابیطس کے باعث پیروں کو لاحق ہونے والی بیماری کے بارے میں بتاتے ہوئے پروفیسر جیری رے مین نے بتایا کہ ذیابیطس کے مریضوں کے خون میں شوگر کی زائد مقدار کے باعث پیروں اور دیگر بیرونی اعضاء میں محسوس کرنے والے اعصاب کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس مرض کی بروقت تشخیص کیلئے پیروں کا باقاعدگی سے مکمل طبی معائنہ ضروری ہے جس سے فٹ السر جیسے عوارض سے تحفظ ممکن ہو سکتا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کا مرض خطرناک حد تک بڑھنے لگا

ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر عبد الصمد شیرا نے ایک صحت مند طرز زندگی اپنانے اور ذیابیطس کے باقاعدگی سے معائنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ذیابیطس ایک وبائی مرض کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ اگر شوگر پر قابو پانا چاہتے ہیں تو یہ کام لازمی کریں

انہوں نے انٹرنیشنل ڈایابیٹز فیڈریشن کی ہدایت (کم کھائیں اور زیادہ چلیں) پر سنجیدگی سے عمل کرنے پر بھی زور دیا۔ پروفیسر عبد الصمد کا کہنا ہے کہ والدین 5 سال کی عمر سے ہی بچوں کو فاسٹ فوڈ اور سوڈا مشروبات سے پرہیز کروانا شروع کر دیں۔ یہ وزن میں اضافے کا سبب ہیں اور موٹاپا ٹائپ 2 ذیابیطس کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکول کی سطح سے ہی ذیابیطس کی تشخیص اور علاج کیلئے قومی صحت پالیسی میں اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ بروقت تشخیص اور فوری علاج ہی اس بیماری کے باعث لاحق ہونے والی پیچیدگیوں سے بہتر تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments