اسرائیلی کمپنی نے کینسر کے مکمل علاج کا دعویٰ کر دیا

Israeli company claims complete cure for cancer!
29ستمبر2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: اسرائیلی بائیو ٹیک کمپنی نے کینسر کے مکمل علاج دریافت کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے، کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2020ء تک اس مرض کا مکمل علاج کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیل کی ایک سلریٹڈ ایوولوشن بائیو ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ کینسر کو مکمل جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والی ان کی دوا کا چوہے پر کامیاب تجربہ کیا جا چکا ہے۔

مذکورہ کمپنی کے سربراہ ڈاکٹر ایان مراد نے ایک بین الاقوامی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بنائی گئی دوا کے کوئی سائیڈ افیکٹس نہیں ہیں جبکہ یہ فی الحال دستیاب دواؤں سے کہیں کم قیمت پر دستیاب ہو گی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ کینسر سے بچنا چاہتے ہیں تو اخروٹ کو اپنی غذا کا لازمی حصہ بنائیے

کمپنی کے اس ٹریٹمنٹ کو ملٹی ٹارگٹ ٹاکسنز کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ٹریٹمنٹ یا دوا کیسے کام کرے گی؟ اس بارے میں ڈاکٹر ایان کا کہنا تھا کہ کینسر کی عام دوائیں ایک خاص ہدف کو ٹارگٹ کرتی ہیں، یہ دوائیں عموماً کینسر زدہ خلیے کو اپنا نشانہ بناتی ہیں۔ اس کے برعکس ان کی دوا کینسر زدہ خلیے کو وصول کرنے والے ریسیپٹر کو 3 طرف سے نشانہ بنائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ عام دوا ایک وقت میں ریسیپٹر پر ایک دفعہ حملہ کرتی ہے، جس سے کینسر کا خلیہ وقتی طور پر کمزور ہو جاتا ہے، اس کے برعکس ان کی بنائی گئی دوا کے 3 دفعہ حملوں کے بعد کینسر زدہ خلیے کی کمزوری میں 3 گنا اضافہ ہو گا اور اسے پھر سے مضبوط ہونے کیلئے وقت درکار ہو گا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ کون سی غذائیں کینسر کا سبب بنتی ہیں! جانیئے اس رپورٹ میں

واضح رہے کہ دنیا بھر میں کینسر کے مرض میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال 1 کروڑ 81 لاکھ افراد کینسر کا شکار ہو رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے ہر آٹھویں ہلاکت کی وجہ کینسر ہے۔ کینسر کے باعث اموات کی تعداد 80 لاکھ سالانہ ہے۔

یونین فار انٹرنیشل کینسر کنٹرول (یو آئی سی سی) کے مطابق سنہ 2030ء تک دنیا بھر میں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد کینسر کا شکار ہوں گے۔

یاد رہے کہ اس وقت دنیا بھر میں کینسر کا مختلف طریقوں سے علاج کیا جاتا ہے تاہم یہ صرف وقتی طور پر فائدہ پہنچا سکتا ہے، کوئی بھی علاج مکمل طور پر اس موذی مرض کو ختم نہیں کر سکتا۔ ابتدائی اسٹیج پر اس مرض کی تشخیص اور اس کے علاج کے باوجود بھی بعد میں عمر کے کسی حصے میں اس مرض کے لوٹ آنے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ تاہم اب اسرائیلی کمپنی کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اس مرض کو جڑ سے ختم کر سکتے ہیں، اگر ایسا ممکن ہوا تو طبی دنیا میں انقلاب برپا ہو جائے گا۔

Facebook Comments