پڑھائی کے دوران وقفہ آپکے حافظے کیلئے انتہائی مفید ثابت

02اگست2021
(فوٹو : فائل)

ویب ڈیسک: (جرمنی) آج سے تقریباً ١٠٠ برس قبل ماہر نفسیات، ہرمن ایبنگہاس نے اپنی مشہور کتاب میں پڑھائی کے دوران دینے والے وقفے کے بارے میں وضاحت کی تھی۔ اس میں لکھا گیا تھا کہ پڑھنے اور سیکھنے کے عمل کے دوران ایک طویل وقفہ لیا جائے تو سیکھنے اور یادداشت دونوں کا عمل بہترین ہوتا ہے۔ آج موجودہ دور کی سائنس بھی اس بات کو ثابت کر چکی ہے۔

میکس پلانک انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے چند ماہرین نے چوہوں کے دماغ پر یادداشت کے حوالے سے چند تجربات کیے ہیں۔ انہوں نے مختلف جگہ پر چاکلیٹ رکھی اور انعام حاصل کرنے کیلئے مختلف مواقع دیئے گئے۔

چاکلیٹ کی تین مرتبہ تلاش کے دوران چوہوں کو راستوں سے واقفیت دی گئی اور انکو راستوں سے واقف کرنے کے عمل کے دوران وقفہ رکھا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ جن چوہوں کو زیادہ دیر وقفہ دیا گیا تھا انہیں چاکلیٹ کی جگہ زیادہ اچھے سے یاد تھی۔ تحقیق میں شامل سائنسدان نے کہا کہ جن چوہوں کو پہلے دن وقفہ دیا گیا انہیں چاکلیٹ نہ پہچان سکے لیکن اس وقفے کا اصل نتیجہ اگلے دن ملا جو کہ یہ تھا کہ انہی چوہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور تمام رکاوٹوں کو پار کرتے ہوۓ سب سے پہلے چاکلیٹ تک جا پہنچے۔

مزید وقفے دینے پر انکی یادداشت میں اور زیادہ بہتری پائی گئی اور اسکے بعد سائنس سے مدد مانگی گئی اور دماغ کے اس حصّے (ڈورسل میڈیئل پری فرنٹل کارٹیکس) کا اسکین لیا گیا جو سیکھنے کے عمل میں انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔
.
حیران کن بات یہ ہے کہ وقفہ لینے سے بھولنے کے عمل میں اضافہ نہیں بڑھتا بلکہ دماغی خلیات نیورون کا وہ پیٹرن برقرار رکھتا ہے جو سیکھنے کے عمل میں ترتیب پاتا ہے۔

یوں ماہرین سے یہ بات ثابت ہے کہ چھٹی لینے سے دماغ کا یادداشتی حصّہ مضبوط ہوتا ہے۔ اس چھٹی یا وقفے کا دورانیہ پڑھائی کے دوران 30 سے 60 منٹ کا ہو تو اثرات نظر آتے ہیں۔

Facebook Comments