موٹاپے سے پریشان افراد کیلئے خوشخبری، جانیے اس خبر میں

Fat people
01مئی2022
(فوٹو: شٹر اسٹاک)

ویب ڈیسک: ( انڈیاناپولس ) ایک نئی دوا ’’ٹرزیپاٹائیڈ‘‘ کی حتمی اور تیسرے سٹیج کے طبی آزمائشوں (فیز تین کلینیکل ٹرائلز) میں رضاکاروں کے وزن میں اوسطاً 22.5 فیصد کمی ہوئی ہے۔ یہ آزمائشیں 72 ویکس جاری رہیں۔

اس دوا پر ریسرچ، تیاری اور اس کی طبّی آزمائشوں کا تمام کام عالمی ادویہ ساز کمپنی ’’ایلائی للی‘‘ کے تحت نو ملکوں میں کیا گیا ہے۔ فیز 3 کلینیکل ٹرائلز میں پچیس سو سے زیادہ رضاکار شامل تھے جن کا اوسط وزن 231 پاؤنڈ (105 کلوگرام) تھا۔رضاکاروں کے چار گروپ بنائے گے پہلے گروپ کو ہفتے میں ایک بار اس دوا کی پانچ ملی گرام مقدار بذریعہ انجکشن فراہم کی گئئ، دوسرے گروپ کو دس ملی گرام پر ہفتہ، تیسرے گروپ کو پندرہ ملی گرام فی ہفتہ، جبکہ چوتھے گروپ کو جعلی لیکن بے ضرر دوا (پلاسیبو) لگائی گئی۔

دوا کے ساتھ ان تمام اہلکاروں کے روزمرہ روٹین میں متوازن غذا اور جسمانی مشقت/ ورزش بھی شریک رکھی گئی تھی جبکہ یہ پراسس 72 ہفتے (ایک سال 5 مہینے) جاری رہا۔ کلینیکل ٹرائل کے آجر پر پتہ چلا کہ پلاسیبو لینے والے رضاکاروں کے وزن میں اس پورے وقت کے دوران صرف 2.4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے مقابلے میں صرف پانچ ملی گرام فی ہفتہ یہ دوا لینے والے رضاکاروں کا وزن سولہ فیصد، جبکہ پندرہ ملی گرام فی ہفتہ کی خوراک لینے والے رضاکاروں کا وزن میں 22.5 فیصد کمی ہوئی۔

یہ رزلٹ اگرچہ اب تک کسی ریسرچ جرنل میں پبلش نہیں ہوئے ہیں تاہم پھر بھی بہت امید افزاء ہیں۔ ایلائئ للی کو پراعتماد ہے کہ ان رزلٹ کی روشنی میں مرکزی امریکی ادارہ برائے غذا و ادویہ (FDA) صرف چند مہینے میں اسے موٹاپے کی ایک نئی دوا کے طور پر اپروو کر لے گا۔

Facebook Comments