وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بچے کُند ذہن بن جاتے ہیں؟

13مارچ2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (فن لینڈ) کیا آپ کے بچے پڑھائی میں کمزور ہیں اور انکے اساتذہ کہتے ہیں کہ وہ کند ذہن ہیں؟اگرایسی بات ہے تو کیا آپ نے کبھی جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایسے کیوں ہیں؟ان تمام سوالوں کے جوابات ذیل میں دئیے جاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فن لینڈ کی ایک یونیورسٹی میں ایک تحقیق کی گئی ،جس سے نتائج اخذ کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ جو بچے جسمانی سرگرمیوں یعنی کھیلنے کودنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور زیادہ تر وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں وہ بالآخر کند ذہن ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ اگر آپ اپنے بچوں کوذہین دیکھنا چاہتے ہیں تو ان باتوں کا خصوصی خیال رکھیں

تحقیقاتی ماہرین کی ٹیم کے ایک رکن پروفیسر کا کہنا ہے کہ انہوں نے سروے کر کے دیکھا کہ پہلی سے تیسری جماعت کے وہ بچے جو زیادہ تر بیٹھ کر اپنا وقت صرف کرتے ہیں اور کھیل کود میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتے وہ کند ذہن ہو جاتے ہیں،اور ان میں تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیتیں بھی کم ہو جاتی ہیں۔

دوسری طرف تحقیق میں بتایا گیا کہ وہ بچے(لڑکے) جو جسمانی طور پر متحرک رہتے ہیں،وہ تعلیمی میدان میں بھی کامیاب رہتے ہیں،ان میں کچھ اوسط درجے کی کارکردگی دکھاتے ہیں جبکہ کچھ بچے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں،لیکن جسمانی طور پر متحرک رہنے والے بچوں میں بری کارکردگی نہایت کم دیکھنے میں ملتی ہے۔

ماہرین نے یہ بھی کہا کہ وہ لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں میں جسمانی اور تعلیمی ربط کے اثرات کو تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچپن میں جسمانی سرگرمیوں کا حصہ بننے والے اور کھیل کود سے لطف اندوز ہونے والے بچوں پر دیرپا مثبت اثرات پڑتے ہیں، اور ایسے بچے مستقبل میں کئی قسم کے طبی مسائل سے بھی دور رہتے ہیں۔

Facebook Comments