ٹی بی کی تشخیص کیلئے بے حد آسان طریقہ دریافت۔ ایک وقت میں ہزاروں افراد کا ٹیسٹ ممکن

05فروری2019
(فوٹو ای سی ڈی سی ڈاٹ یوروپا ڈاٹ ای یو)

ویب ڈیسک: (ہاگ) نیدر لینڈ میں ایک تحقیق کے دوران ٹی بی (تپ دق) کی تشخیص کا نہایت ہی آسان طریقہ ڈھونڈ لیا گیا ہے ،جس کے ذریعے دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکتا ہے۔

نیدر لینڈ کے شہر ہاگ میں قائم ٹی بی کی آگاہی دینے والے ادارے میں کی گئی تحقیق میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو شامل کیا گیا ،جن کے تھوک(بلغم) کا ٹیسٹ لیا گیا،ماہرین کے مطابق ٹی بی کی تشخیص کیلئے اس نئے طریقے میں جدید ٹیکنالوجی اور بہت زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں،جبکہ اس طرح دور دراز علاقوں میں رہنے والے بچوں کی بیماری کو بھی آسانی سے اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں دو لاکھ چالیس ہزار بچے ٹی بی کے باعث موت کا شکار ہو جاتے ہیں،اتنی کثیر تعدادمیں بچوں کی موت میں جہاں دوسرے کئی پہلو کارفرما ہیں وہیں اس بیماری کی دیر سے تشخیص بھی ایک اہم نقطہ ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی بی سے متاثرہ 90فیصد بچے علاج کے دوران مر جاتے ہیں اور اسکی وجہ انکی بیماری کی تشخیص اس وقت ہونا ہے جب وہ آخری اسٹیج پر ہوتی ہے۔

ماہرین نے ٹی بی کی تشخیص کا اب جو طریقہ ایجاد کیا ہے اس کے مطابق مریضوں کو اپنے بلغم کا ٹیسٹ کروانا ہو گا،اس طریقۂ تشخیص میں بلغم کے نمونے کو مشین میں ڈالا جاتا ہے جس کے بعد مشین اس بلغم کے نمونے کے حوالے سے مریض میں ٹی بی کی نوعیت اور حساسیت بتاتی ہے۔

دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کا بلغم حاصل کرنے کیلئے دقت کا سامنا ہو تا ہے ،اس لئے والدین کو ٹیسٹ سے ایک روز قبل بچوں کو اسپتال لانا پڑے گا۔

تحقیقاتی ٹیم کے رکن کیٹی ویزنبیک کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کے تحت جہاں بیماری کی تشخیص ممکن ہے وہیں اس کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی،جبکہ اس طریقہ کے تحت ہزاروں افراد کا ایک ہی وقت میں ٹیسٹ ممکن ہو گا۔

تحقیق کے دوران لیباریٹری کنسلٹنٹ کا کہنا تھا کہ 650سے زائد ایسے بچوں کی جان بچائی گئی جو دم توڑ سکتے تھے،یہ مشین ایک بڑی ایجاد ہے جو کسی چھوٹی لیباریٹری میں بھی نصب کی جا سکی ہے۔

ٹی بی کی تشخیص کیلئے ایجاد کی جانے والی اس مشین کو ہاگ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں نمائش کیلئے پیش کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن)کے مطابق سال 2017ء میں 17لاکھ سے زائد افراد ٹی بی کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جاچکے ہیں جن میں ا کثریت بچوں کی تھی۔

ٹی بی ایک ایسا مرض ہے جو پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور ہو اکے ذریعے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے۔

ٹی بی کا مرض کیسے لاحق ہوتا ہے؟

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ٹی بی کا مرض غربت،غذائی کمی اور صفائی کا مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث لوگوں کو اپنا شکار بناتا ہے،جبکہ پہلے سے مختلف بیماریوں جیسے ایڈز،ذیابیطس وغیر ہ میں مبتلا افراد اور طویل عرصے تک تمباکو نوشی ،شراب نوشی کرنے والے افراد بھی باآسانی اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ٹی بی کی علامات کیا ہیں؟

دو ہفتے سے زیادہ کھانسی یا بخار کا ہونا،بہت زیادہ تھکاوٹ ہونا،رات کو پسینہ آنا،بھوک اور وزن میں کمی ہونا اورکھانسی میں خون آنا ٹی بی میں مبتلا ہونے کی نشانیاں ہیں،ماہرین کہتے ہیں کہ مذکورہ علامات پر بروقت توجہ دے کر اس بیماری کی تشخیص کی جا سکتی ہے۔

Facebook Comments