زمین تو بانٹ لی گئی اب چاند پر کس کا حق ہے ؟

18اکتوبر2019

Moon Surface
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک چاند پر پہنچ رہے ہیں اور کچھ پہنچنے کی کوشش میں ہیں ، کاروباری کمپنیاں آج کل چاند پر نادر معدنیا ت کی تلاش میں کان کنی کے بارے میں سوچ رہی ہیں ، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چاند پر اور اس کے قدرتی وسائل پر کس کا حق ہے ؟

انسان کو چاند پر قدم رکھے ہوئے تقریباً 50برس بیت چکے ہیں ، امریکی خلاباز نیل آرمسٹرانگ نے جب چاند کی سر زمین پر اپنا پہلا قدم رکھا تو اس نے کہا کہ یہ چھوٹا سا قدم انسانیت کیلئے بہت بڑی چھلانگ ہے ۔

آرمسٹرانگ کے تھوڑی دیر بعد دوسرا خلانورد بز ایڈرن چاند کی زمین پر اُترا، ایگل نامی چاند گاڑی کی سیڑھیوں سے اُترتے ہوئے اُس نے چاند کی دور دور تک پھیلی خالی سطح پر نظر دوڑائی تو اس نے اسے ایک شاند ار ویرانی سے تعبیر کیا ۔

جولائی 1969ء کے اس اپالو مشن کے بعد انسان چاند سے دور ہی رہا اور 1972ء کے بعد سے چاند پر کوئی انسان نہیں گیا، تاہم اب ایک بار پھر سے کئی کمپنیاں نہ صرف چاند کی سطح کے بارے میں مزید کھوج لگانے میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں بلکہ کھودائی کر کے سونا، پلاٹینم اور الیکٹرونکس میں استعمال ہونے والی دیگر دھاتوں کو نکالنے کا بھی سوچ رہی ہیں ۔

سال 2019ء کے اوائل میں چین نے چاند کے اس حصے پر مشن اتارا جو زمین سے دکھائی نہیں دیتا ، اور چاند کی زمین پر کامیابی سے کپاس کا بیج بھی اُگانے میں کامیاب ہو گئے، چین چاند پر تحقیقی مرکز قائم کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے ۔

آئی اسپیس نامی جاپانی کمپنی زمین اور چاند کے درمیان آمدورفت کیلئے ایک پلیٹ فارم تعمیر کرنے اور اس کے علاوہ چاند پر پانی کی تلاش کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔ اس ساری صورتحال میں کیا کوئی قوانین موجود ہیں جن سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ خلانورد بز ایڈرن کی شاندار ویرانی والی جگہ اپنی ویرانی برقرار رکھ سکے گی؟

مغرب اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے دنوں سے خلا چھان بین اور خلائی اجسام پر پائے جانے والے ممکنہ قدرتی وسائل پر حق کے حوالے سے بحث ہوتی رہی ہے ۔ اقوام متحدہ نے 1967ء میں امریکا ،برطانیہ اور سوویت یونین سے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کروائے جب امریکی خلائی ادارہ ’’ناسا‘‘ چاند پر انسانی مشن بھیجنے کی تیاری کر رہا تھا ۔ اقوام متحدہ میں ہونے والے اس معاہدے کو ’’ آوَٹر اسپیس ٹریٹی‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے ۔

اقوام متحدہ کے اس معاہدے میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ کوئی بھی ملک چاند یا دوسرے خلائی سیاروں پر اپنے موجودگی کو بنیاد بنا کر ان پر اپنی ملکیت و حاکمیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا ۔

ایک خلائی کمپنی ایلڈن ایڈوائزر کی ڈائریکٹر جان ویلر کہتی ہیں کہ آوَٹر اسپیس کو خلا کا میگنا کارٹا
بھی سمجھا جا سکتا ہے ۔

وہ آگے چل کر مزید کہتی ہیں کہ پہلے خلا نورد نیل آرمسٹرانگ اور اُس کے ساتھی نے چاند پر جھنڈا لہرانے کا جو عمل کیا وہ بڑا ہی بے معنی ہے،کیونکہ ایسا کرنے سے کسی فرد ِ واحد یا کسی کمپنی اور ملک کو چاند یا خلا کے مالکانہ حقوق نہیں مل جاتے ۔

یہ بات 1969ء میں اتنی اہمیت کی حامل نہیں تھی کہ چاند کی زمین اور اس پر کھودائی کا حق کس کے پاس اور کس کے پاس نہیں ہے تاہم جیسے جیسے وقت بدل رہا ہے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی اور آئے روز نت نئی ایجادات ہورہی ہیں تو چاند پر موجود ذخائر سے فائدہ اُٹھانے کے امکانات بھی روشن ہو رہے ہیں ۔

اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے ’’میثاق ِ قمر‘‘ نامی ایک معاہدہ جاری کیا ہے ، جس کا واضح مقصد چاند اور دیگر اجسام فلکی پر مختلف ممالک کی سرگرمیوں کو قانون کے دائر میں لانا اور اُن پر نظررکھنا ہے ۔ اس معاہدے کا اصل مقصد یہ ہے کہ خلائی وسائل کو انسانیت کی فلاح اور پُرامن مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے اور ہر ملک اس بات کا بھی پابند ہو کہ وہ اگر خلا میں کسی جگہ پر کوئی اسٹیشن تعمیر کرنا چاہے تو اُس ملک کو پہلے اقوام متحدہ سے اجازت لینا ہو گی اور یہ بھی بتانا پڑے گا کہ وہ خلا یا چاند پر اسٹیشن کیوں قائم کرنا چاہتا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے ؟

اقوام متحدہ کے ’’میثاق ِ قمر‘‘ میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ فرانس اور بھارت سمیت 11ممالک نے اس معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں لیکن امریکہ ، روس ، چین اور برطانیہ نے دستخط نہیں کئے ۔ مس ویلر کے مطابق معاہدے میں طے کردہ اصولوں کی پاسداری کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے ، کیونکہ مختلف ممالک ایسی مختلف دستاویزات قانون میں شامل کرتے رہتے ہیں اور اس قانون کو یقینی بنانا ان ممالک کا کام ہے کہ ان کے شہری اور کمپنیاں اس قانون پر کاربند رہیں گی ۔

امریکہ نے 2015ء میں کمرشل اسپیس لانچ کمپیٹٹو ایکٹ قانون پاس کیا جس میں شہریوں کے ایسے وسائل پر ان کا حق تسلیم کیا گیا جو انہوں نے کسی چھوٹے سیارے پر کان کنی کے ذریعے حاصل کئے ہوں ۔ خلا کے قدرتی وسائل کا کھوج لگانے والی کمپنی پلینیٹری ریسورسز کے بانی ایرک اینڈرسن اس قانون کو جملہ حقوق تسلیم کرنے کا تاریخ کا سب سے اہم قانون قرار دیتے ہیں ، اسی طرح لکسمبرگ نے بھی 2017ء میں ایک قانون منظور کیا ، جس میں خلا کے قدرتی وسائل پر اسی قسم کے حق کوتسلیم کیا گیا ۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ کئی کاروباری ادارے ان قدرتی معدنیات سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کئی ممالک ان مقاصد میں ان کمپنیوں کی مدد بھی کرنے کیلئے تیار ہیں ، تاہم خلا کے متعلق قوانین کی ماہر کمپنی ’’نلیڈی اسپیس لاء‘ ‘ سے منسلک وکیل ہیلن تبینی کہتی ہیں کہ امریکہ اور لکسمبرگ دھاندلی کے ذریعے سے معاہدے سے نکل گئے ہیں ، اور مجھے نہیں لگتا کہ مستقبل میں اس دعویٰ کا کوئی پاس بھی رکھے گا کہ خلا کی تحقیق میں تما م ممالک کا حق برابر ہے اور سب کو مل جل کر کام کرنا چاہیے ۔

Facebook Comments