مائیکل اینجلو! ایک ایسا مصور اور سنگ تراش، چار صدیاں گزرنے کے باوجود بھی جس کے فن کی دھاک نہ مٹ سکی

18اکتوبر2019

Michelangelo! An artist and sculptor, even after four centuries, whose art could not be diminished
نشاۃ الثانیہ (حیاتِ نو، مغرب کے دورِ احیائے علوم کیلئے استعمال ہوتا ہے) کے دور کا عظیم فنکار مائیکل اینجلو بوناروٹی بصری (دیکھنے سے متعلق) فنون کی تاریخ کی ایک غیر معمولی شخصیت ہے۔ یہ ذہین مصور، سنگ تراش اور ماہرِ تعمیرات اپنے پیچھے شہ پاروں کا ایک ایسا دفتر چھوڑ گیا ہے، جو چار صدیوں سے دیکھنے والوں کے ذوق کی تسکین کا موجب بن رہا ہے۔ اس کے بنائے گئے فن پاروں نے بعد کی یورپی مصوری اور سنگ تراشی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

مائیکل اینجلو اٹلی میں فلورنس سے چالیس میل دور ایک قصبے کیپریس میں 1475ء میں پیدا ہوا۔ کمسنی میں ہی اس کا فن آشکار ہونا شروع ہو گیا تھا۔ تیرہ برس کی عمر میں وہ فلورنس میں اس دور کے معروف مصور غرلاندائیو کے ہاں ملازم ہو گیا۔ پندرہ برس کی عمر میں وہ فلورنس کے فرمانروا لورنزو اعظم کے خاندان کے ساتھ میڈیسی میں رہنے لگا، اور لورنزو اسکا سرپرست بن گیا۔

مائیکل اینجلو نے اپنی تمام زندگی میں اپنے فن کو منوایا۔ اس نے پوپ حضرات اور بے تعصب فرمانرواؤں کیلئے مختلف فن پاروں پر کام کیا۔ اس طرح اسکی زندگی مختلف محلوں میں میں بسر ہوئی، تاہم اسکا بیشتر وقت روم اور فلورنس میں گزرا۔ 1564ء میں وہ 89 برس کی عمر میں فوت ہوا، اور تمام عمر تنہا رہا۔

کہا جا تا ہے کہ مائیکل اینجلو اپنے ہم عصر تاہم عمر رسیدہ مصور لیونارڈو ڈاونسی جیسا مدبر فنکار تو نہیں تھا، لیکن اسکے فن میں بہت ہمہ گیریت ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اکیلا ایسا فنکار ہے جو انسانی مساعی ( کوششیں، محنتیں ) کے دو مختلف شعبوں میں کامیابی کی ایک سی انتہا تک پہنچا۔

بطورِ مصور مائیکل اینجلو کا شمار صف اول کے فنکاروں میں ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنے فن کی عمدگی کے اعتبار سے سرفہرست فنکاروں میں شمار کیا جاتا ہے بلکہ اس نے بعد میں آنے والے مصوروں پر بھی اپنی مصوری کے گہرے اثرات چھوڑے۔

روم میں سسٹائن چیپل کی چھت پر اسکی آبی رنگوں میں تصویر کشی دنیا کے عظیم فن پاروں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود مائیکل اینجلو خود کو بنیادی طور پر ایک سنگ تراش سمجھتا تھا، جبکہ متعدد ناقدین اسکو دنیا کا صفِ اول کا سنگ تراش تسلیم کرتے ہیں۔ مائیکل اینجلو کے بنائے گئے حضرت داؤد، حضرت موسیٰ اور مشہور بت
Pieta
کے مجسمے فن کے لازوال شاہکار مانے جاتے ہیں۔

مائیکل اینجلو ایک بلند پایہ ماہرِ تعمیرات بھی تھا۔ فنِ تعمیرات کے میدان میں اسکے اہم ترین کارناموں میں سے ایک کارنامہ فلورنس میں ’’میڈیسی چیپل‘‘ کی عمارت ہے۔ کئی برسوں تک وہ روم میں سینٹ پیٹر کا اہم ترین ماہرِ تعمیرات بھی رہا۔

مائیکل اینجلو نے اپنی زندگی میں کئی نظمیں بھی رقم کیں، تاہم ان میں سے محض تین سو ہی محفوظ رہ سکیں ہیں۔ اسکی لاتعداد سینٹ (شاعری کی ایک صنف) اور نظمیں اسکی زندگی میں نہیں چھپ سکیں ۔ مائیکل اینجلو کی شاعری سے اسکی شخصیت کے مزید اسرار کھلتے ہیں۔ اسکی شاعری سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک بلند پایہ شاعر تھا۔

Facebook Comments