بکری کا دودھ گائے کے دودھ سے زیادہ مفید کیوں ہوتا ہے؟

17اکتوبر2019

Why is goat's milk more useful than cow's milk?
بکری کا دودھ گائے کے دودھ سے زیادہ مفید ہوتا ہے، یہ جسم کی پرورش کے ساتھ ساتھ صحت کا تحفظ بھی کرتا ہے۔ امریکہ کے مشہور ماہرِ غذائیت ڈاکٹر ڈوگلس تھامس نے تجربات سے ثابت کیا ہے کہ ’’بکری کا دودھ دوسری تمام پینے والی اشیاء سے زیادہ سودمند ہوتا ہے۔‘‘ بکری کے دودھ کے زیادہ مفید ہونے کی دو خصوصیات ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ایک تو بکریوں میں سِل (پھیپھڑوں کا ایک مرض، جس میں کھانسی کے ساتھ جسم کو گھُلا دینے والا بخار بھی ہو جا تا ہے) کا مرض نہیں ہوتا، جبکہ گایوں میں یہ مرض عام پایا جاتا ہے، اوردوسری خصوصیت یہ ہے کہ بکری کا دودھ دوسری تمام پینے والی اشیاء سے زیادہ زود ہضم ہوتا ہے۔

اس بارے میں ڈاکٹر میریٹ کہتے ہیں کہ بچوں کو غذا کے طور پر بکری کا دودھ پلانا اس صورت میں انتہائی ضروری اور فائدہ مند ہے جب گائے کا دودھ بچے کو راس نہ آئے اور اسے پینے سے بچے کو بد ہضمی کی شکایت ہو جاتی ہو، ایسے بچے بکری کا دودھ با آسانی ہضم کر لیتے ہیں۔

ڈاکٹر این این بیک نے بکری اور گائے کے دودھ میں موازنہ کرنے کیلئے ایک تجربہ کیا۔ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے انکا کہنا ہے کہ بکری کا دودھ زیادہ زود ہضم ہوتا ہے، اور جن بچوں کے جسم کی نشونما رک گئی ہو یا جن مریضوں کو ہاضمے کا مسئلہ ہو انکے لئے بکری کا دودھ کسی نعمت سے کم نہیں۔

بکری کے دودھ کے زود ہضم ہونے کی خاص وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ اسکی چربی کی تہیں بہت پتلی ہوتی ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ اسکی چربی لطیف ترین ہوتی ہے اور معدے کی رطوبت اس پر آسانی سے اثرانداز ہو جاتی ہے، تیسری وجہ یہ ہے کہ اسکے کیرین کے دانے بھی بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں اور آسانی سے ہضم ہو جاتے ہیں، چوتھی وجہ یہ ہے کہ اس میں البیومن (پروٹین کی ایک قسم) کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔

بکری کے دودھ میں چکنائی اور نمکیات کے اجزاء کافی پائے جاتے ہیں، نمک کی ایک قسم کیلشیم (چونا) بھی ہوتی ہے، یہ کیلشیم کا نمک بکری کے دودھ کا جزوِ اعظم ہے۔ کیلشیم جسم کی پرورش کیلئے بے حد ضروری ہوتا ہے، جس کسی کے جسم میں بھی اسکی کمی ہو اسے تپ دق کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔

اگر بکری اور گائے کے دودھ کا مقابلہ کیا جائے تو بہت سے دلچسپ فرق سامنے آتے ہیں۔ جیسے کہ گائے کے دودھ کی کیفیت تیزابی ہوتی ہے۔ کمزور معدے والے مریض کیلئے یہ ایک فرق ہی موت کا سبب بن سکتا ہے۔ گائے کے دودھ کو ہضم کرنے کیلئے دو گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے جبکہ بکری کا دودھ نصف گھنٹے میں ہی ہضم ہو جاتا ہے۔

بکری، گائے اور انسان کے دودھ میں بارہ مختلف قسم کے نمکیات پائے جاتے ہیں، ان میں سے نو قسم کے بکری کے دودھ میں، چھ قسم کے گائے کے دودھ میں، اور پانچ قسم کے انسانی دودھ میں ملتے ہیں۔ گائے کے دودھ میں فولاد کا جزو نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، جبکہ بکری کے دودھ میں سات سے لیکر دس گنا تک پایا جاتا ہے، اسی طرح پوٹاشیم کی مقدار بھی بکری کے دودھ میں زیادہ پائی جاتی ہے، اور پوٹاشیم سے زیادہ کوئی چیز بھی آکسیجن کو جذب نہیں کرتی، آکسیجن کہیں بھی ہو پوٹاشیم اسے جذب کر لیتا ہے۔

بکری کے دودھ میں فلورین بھی کثرت سے پائی جاتی ہے، یہ ہڈیوں کی نشونما، دانتوں کی مضبوطی اور آنکھوں کی صحت کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ ہماری صحت کی عمدگی کا دارومدار ریڑھ کی ہڈی کی مضبوطی پر ہوتا ہے۔ میگنیشیم ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط کرتا ہے، اور یہ جزو بھی بکری کے دودھ میں کافی پایا جاتا ہے۔ جسم کے زہریلے مواد کو تحلیل کر کے گردہ اور مثانہ کے ذریعے خارج کرنے کیلئے نمک سوڈیم بڑی اہمیت کا حامل ہے، اگر سوڈیم نہ ہو تو لائم اور میگنیشیم سخت ہو کر گردے اور مثانے کی پتھری پیدا کرتے ہیں۔ بکری کے دودھ میں سوڈیم کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامنز بھی ہوتے ہیں۔

بکری کا دودھ سرد تر اور لطیف ہوتا ہے۔ جنگلی بکریوں کا دودھ فوائد کے اعتبار سے بہترین تصور کیا جاتا ہے، یہ کھانسی، سنگرہنی، پیچش، تپ دق، سِل، تلی، جگر، پرانا بخار، یرقان، بواسیر، دماغ اور خون کی بیماریوں میں مفید ہے۔ بکری کے دودھ میں املتاس (ایک درخت جس کے پھول زرد رنگ کے ہوتے ہیں اور پھلیاں املی سے بڑی اور لمبی ہوتی ہیں، ان پھلیوں میں سے رطوبت نکلتی ہے جسے مغزِ املتاس کہتے ہیں) اور کتھا ملا کر غرارے کرنے سے منہ کے چھالے ختم ہو جاتے ہیں۔ بکری کے دودھ میں روئی بھگو کر رات کے وقت آنکھوں پر رکھ کر پٹی باندھنے سے آنکھوں کا درد رفع ہو جاتا ہے۔

Facebook Comments