عشق کرنے کیلئے جوانی اور تندرستی ضروری ہے

16اکتوبر2019

Heart
پرانے زمانے کی بات ہے ایک بادشاہ شکار کھیلنے کیلئے اپنے سپاہیوں کے ہمراہ جنگل میں گیا، جہاں اُس نے ایک لونڈی کو دیکھا جسے دیکھتے ہی وہ اُس لونڈی پر فدا ہو گیا، بادشاہ نے اس کے مالک کو منہ مانگی قیمت دے کر اسے خرید لیا۔

خریدنے کے بعد بادشاہ اُس لونڈی کو محل لے آیا اور اُسے ملکہ بنا دیا، خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ ایک دن بیمار ہو گئی، بادشاہ نے زمانے بھر کے طبیبوں کو ملکہ کے علاج کے لئے بلایا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا کوئی دوا کارگر نہ ہوئی اور مریضہ کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی گئی۔

بادشاہ خدا ترس تھا اللہ نے اسے دین و دنیا کی بادشاہت عطا کی تھی، بادشاہ سمجھ گیا کہ وہ غلط راستے پر چل پڑا ہے اور مجبوری نے اسے حکیموں کے چکر میں پھنسا دیا ہے، رات ہوئی بادشاہ مسجد گیا اور اتنا گریہ کیا کہ سجدے والی جگہ بھیگ گئی پھر اس نے دعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے اور کہا اے اللہ بادشاہی تیرے لئے معمولی چیز ہے جو تو نے مجھے بخش دی ہے، میں بھول گیا تھا اور تجھے چھوڑ کر دوسروں کا سہارا ڈھونڈ رہا تھا، اے میرے مالک میری غلطی معاف کر دے اور اپنے فضل و کرم سے مجھے بہرہ ور کر۔

بادشاہ کو نیند آ گئی نیند میں اسے حکم ہوا کی اس کی دعا قبول ہو گئی ہے، صبح ایک بزرگ آئے گا اس کی حکم عدولی مت کرنا پھر دیکھنا مریضہ کیسے صحت یاب ہوتی ہے، بادشاہ صبح اُٹھا اور بزرگ کے آنے کا انتظار کرنے لگا، اچانک وہ بزرگ پہنچ گئے، بادشاہ نے انہیں انتہائی عزت و تکریم سے بیٹھایا اور سارا معاملہ دریافت کیا۔

بزرگ جو حکیم کے روپ میں تھے کہنے لگے کہ مجھے خلوت چاہیے، حکیم نے ملکہ سے اس کے حالات دریافت کرنا شروع کئے اور ایک ہاتھ اس کی نبض پر رکھ دیا، باتوں ہی باتوں سمرقند کے اس زرگر کا ذکر آیا جس کے پاس وہ چھ ماہ رہی تھی اور زرگر نے اسے بیچ دیا تھا، زرگر کے ذکر پر مریضہ کی نبض میں خاص حرکت پیدا ہوئی، حکیم نے سارا ماجرا بادشاہ کو سنایا اور اس زرگر کو بلانے کو کہا، بادشاہ نے حکم دیا اور زرگر کو حاضر کر لیا گیا۔

ملکہ دنوں میں تندرست ہونے لگی جبکہ حکیم کے منتروں سے زرگر دن بدن کمزور اور نحیف تر ہوتا چلا گیا، عورت جس قدر اس پر عاشق تھی وہ عشق بھی کم ہو گیا اور وہ بادشاہ سے مانوس ہوتی چلی گئی، آخر کمزور اور لاغر ہونے پر زرگر (سنار) مارا گیا اور بادشاہ اور ملکہ کی مشکل آسان ہوئی۔

مولانا جلال الدین رومی حکایت کے آخر میں درس دیتے ہیں کہ عشق جوانی اور تندرستی سے ہے، مردہ جسم سے عشق کی کوئی حقیقت نہیں ہےسچا اور پکا عشق اللہ تعالیٰ کی ذات پاک سے کرنا چاہیے۔

Facebook Comments