استاد کی عزت کرنا کوئی مغرب سے سیکھے

16اکتوبر2019

If you want to honor the teacher, learn from the West
جس زمانے میں مَیں روم (روم یونیورسٹی) میں پروفیسر تھا، مَیں وہاں سب سے کم عمر پروفیسر تھا۔ ان دنوں یونیورسٹیوں میں چھٹیاں تھیں اور گرمیوں کے دن تھے۔ مجھے دوپہر کے وقت ریڈیو اسٹیشن پر اردو براڈ کاسٹنگ کرنی پڑتی تھی۔ روم میں دوپہر کے وقت سب لوگ قیلولہ کرتے تھے، چار بجے تک سوتے تھے اور روم کی سڑکیں بالکل خالی ہوتی تھیں، کارپوریشن نے وہاں پانی کے حوض لگا کر سڑکیں دھونے کا انتظام کر رکھا تھا، اسطرح سڑکیں صاف بھی ہو جاتیں اور شام تک ٹھنڈی بھی ہو جاتی تھیں۔

ایک روز مَیں ریڈیو اسٹیشن سے گھر لوٹ رہا تھا، سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی، میں اپنی گاڑی چلا رہا تھا، میں نے دیکھا کہ آگے گول دائرہ ہے اسکے اوپر سے چکر کاٹ کے آؤں گا پھر اپنے گھر کی طرف مڑ جاؤں گا، لیکن مجھے ایک بے ہودہ بات سوجھی کہ دوپہر کا وقت ہے چلو بیچ میں سے چلتے ہیں ، اس وقت کون دیکھ رہا ہے۔ تو مَیں بیچ میں سے گزر گیا، وہاں ایک سپاہی کھڑا تھا، اس نے مجھے دیکھ لیا لیکن جانے دیا۔ اس نے شائد سوچا ہوگا کہ نوجوان ہے چلو جانے دو کوئی بات نہیں۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے مَیں نے شیشے میں سے اسے دیکھا اور مڑ کر اسکی طرف طنزاً مسکرا دیا۔ میں دراصل اپنی اس کامیابی اور خوش قسمتی پر مسکرا رہا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ میں نے اسکی یہ عزت کی ہے تو اس نے سیٹی بجا کر مجھے روک لیا۔ اب وہاں پر سیٹی بجنا اور رکنا موت کے برابر تھا، بہرحال مَیں رکا اور وہ میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔

اس نے پہلے سیلوٹ کیا، (ولایت میں یہ رواج ہے کہ جب بھی کسی کو پکڑا جاتا ہے یا چالان کیا جاتا ہے تو سب سے پہلے اسے سیلوٹ کیا جاتا ہے) تو اس نے جب مجھے سیلوٹ کیا، میں اندر سے تھر تھر کانپنے لگا۔ مَیں نے شیشہ نیچے کیا تو وہ مجھے کہنے لگا کہ لائسنس دیکھائیں، مَیں نے جواب میں کہا کہ مَیں زبان نہیں جانتا، تو اس نے کہا کہ اچھی بھلی تو بول رہے ہو، میں نے کہا کہ مَیں واقعی نہیں جانتا تم ایسے ہی جھوٹ بول رہے ہو، اس نے کہا آپ اپنا ڈرائیونگ لائسنس دیں، میں نے کہا کہ فرض کریں جس کے پاس لائسنس نہ ہو تو پھر وہ کیا کرے ۔ اس نے کہا کوئی بات نہیں مَیں آپکا چالان کر دیتا ہوں، آپ جا کر جرمانہ ادا کر دیں۔ مَیں نے کہا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی، اس نے کہا کہ غلطی ہو گئی تھی تو چلے جاتے۔ بہرحال اس نے مجھ سے بغیر پوچھے پرچی پھاڑی اور چالان کر کے مجھے تھما دیا۔ چالان بھی بڑا سخت بارہ آنے جرمانہ ۔ ۔

میں نے چالان کی پرچی لے لی اور اس سے پوچھا اب کیا کروں، تو اس نے جواب دیا کہ اپنے کسی بھی قریبی ڈاکخانے میں منی آرڈر کی کھڑکی پر جا کے جمع کروا دیں۔ ہاں یہ اچھی بات ہے کہ وہاں کچہری نہیں جانا پڑتا، اور دھکے نہیں کھانے پڑتے۔

مَیں جب چالان کروا کے گھر آیا تو مَیں نے اپنی لینڈ لیڈی (گھر کی مالکہ) سے کہا کہ میرا چالان ہو گیا ہے۔ بس میرا یہ کہنا تھا کہ اس نے ایسے تاثرات دیئے کہ جیسے اس کے گھر میں کوئی بہت بڑا مجرم آ گیا ہو۔ اس نے اپنی ساس اور بیٹی کو بتا دیا کہ پروفیسر کا چالان ہو گیا ہے اور سب روتے ہوئے میرے پاس آ گئے، میں بڑا ڈر گیا کہ یا اللہ مَیں نے ایسا کیا کر دیا ہے۔ وہ سب کہنے لگے کہ تو ہمیں اچھے گھر کا شریف آدمی لگتا تھا، اسی لئے ہم نے تجھے کرائے پر کمرہ دیا لیکن تو بالکل ایسا نہیں نکلا، شکر ہے انہوں نے مجھے گھر خالی کرنے کا نہیں کہا۔

میری لینڈ لیڈی کی ساس نے مجھے کہا برخوردار چالان تو ہو گیا ہے لیکن محلے میں کسی سے اس بارے میں ذکر نہ کرنا، محلے داری کا معاملہ ہے، اگر محلے میں کسی کو معلوم ہو گیا کہ تمہارا چالان ہو گیا ہے تو ہمیں بڑی ذلت اٹھانی پڑے گی۔ مَیں نے کہا کہ آپ فکر نہ کریں مَیں کسی کو پتہ نہیں چلنے دوں گا۔

میری 26 سال کی لاپرواہی والی عمر تھی، میں نے چالان جیب میں ڈالا اور نکل گیا دوستوں سے ملنے۔ اگلے دن مجھے جمع کروانا تھا، سارا دن نکل گیا اور مَیں بھول گیا کہ مجھے چالان جمع کروانا تھا۔ اب اس سے اگلے دن تو مجھے ہر حال میں جمع کروا دینا چاہیئے تھا اور اب کی بار کپڑے تبدیل کئے تو چالان کوٹ میں رہ گیا۔ شام کے وقت مجھے ایک تار ملا کہ محترمی پروفیسر صاحب فلاں فلاں جگہ پر فلاں چوراہے پر فلاں سپاہی نے آپ کا چالان کیا تھا، یہ آپکے چالان کا نمبر ہے آپ نے ابھی تک جرمانے کے پیسے جمع نہیں کروائے جوکہ بڑی حکم عدولی ہے۔ مہربانی فرما کر جرمانے کے پیسے جمع کروا دیں، (تار تقریباً اکیس روپے کا تھا) اب مجھ سے ایک اور غلطی ہوئی کہ مَیں پھر بھول گیا، اور ایک اور تار آ گیا، اس میں لکھاتھا کہ اگر آپ نے اب بھی پیسے جمع نہیں کروائے تو ہمیں افسوس کے ساتھ آپ کو کورٹ میں پیش کر نا پڑ جائےگا۔ مجھ سے پھر کوتاہی ہوئی کہ نہ جمع کروا سکا، اور اب کی بار مجھے کورٹ سے ایک سمن آ گیا کہ فلاں تاریخ آپ عدالت کے روبرو پیش ہو جائیں، آپ نے جو قانون توڑا ہے اور اس پر حکم عدولی کی ہے اس سے متعلق آپ سے انصاف کیا جائے گا۔

اب میں ڈر گیا اور میری سٹی گم ہو گئی، مَیں پریشان ہو گیا کہ مَیں پردیس میں ہوں یہاں تو میرا کوئی مددگار بھی نہیں، کس کو اپنا والی بناؤں۔ میرا ایک ڈاکٹر تھا، اسکا نام بالدی تھا، نوجوان تھا، مَیں نے اس سے کہا کہ مجھے ایک وکیل کر دو۔ اس نے کہا میرا یک دوست ہے اسکے پاس چلتے ہیں، چنانچہ ہم اس کے پاس چلے گئے، اس صاحب نے کہا کہ اگر میں عدالت میں گیا تو معاملہ پیچیدہ ہو جائے گا، بہتر یہی ہے کہ پروفیسر صاحب خود جائیں اور عدالت کا سامنا کریں، عدالت کو بتائیں کہ مَیں ایک غیر ملکی ہوں، اس قانون کو نہیں جانتا، آئندہ ایسا نہیں کروں گا، لہٰذا مجھے معافی دی جائے۔

مَیں نے کہا ٹھیک ہے اور مَیں ڈرتا ڈرتا عدالت پہنچ گیا۔

روم میں ’’ پالاس آف جستی‘‘

Palace Of Justice
رومن دور کی وسیع و عریض عدالت ہے۔ اسے تلاش کرتے ہوئے میں اپنے جج صاحب کے کمرہَ عدالت میں پہنچ گیا، وہ وہاں تشریف فرما تھے۔ مجھے بھی بالترتیب بلایا گیا اور میں حاضر ہو گیا۔ اب میرے جسم میں روح نام کی چیز نہیں تھی اور میں بڑا خوفزدہ تھا، حتیٰ کہ مجھ میں کانپنے کی بھی جراَت نہیں بچی تھی۔ انہوں نے حکم دیا کہ آپ اس کٹہرے میں آ کر کھڑے ہوں، اب عدالت نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا چالان ہوا تھا، اور آپکو یہ حکم دیا گیا تھا کہ کہ آپ یہ بارہ آنے جرمانے کے طور پر جمع کروا دیں، کیوں نہیں کروائے؟ میں نے جواب دیا کہ جی مجھ سے غلطی ہو گئی، مجھے کروانے چاہئیں تھے، لیکن میں ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا کہ عملے کا کتنا وقت ضائع ہوا، پولیس کا کتنا ضائع ہوا اور اب ’’جستیک‘‘ (عدالت کے جج ) کا ہو رہا ہے، آپکو اس بات کا احساس ہونا چاہیئے تھا، ہم اس کے بارے میں آپکو کڑی سزا دیں گے۔

مَیں نے عرض کی، مَیں یہاں ایک غیر ملکی ہوں، (جیسا کہ ہمارا بہانہ ہوتا ہے) مَیں یہاں کے قانون کو نہیں سمجھتا، تو مجھ پر مہربانی فرمائیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ زبان تو ٹھیک ٹھاک بول رہے ہیں، وضاحت بھی کر رہے ہیں، آپ کرتے کیا ہیں۔ تو مَیں اس پر چپ کر کے کھڑا رہا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت آپ سے پوچھ رہی ہے کہ آپ کون ہیں اور آپکا پیشہ کیا ہے؟ مَیں نے کہا کہ میں ایک ٹیچر ہوں، روم یونیورسٹی میں پروفیسر ہوں، تو وہ جج صاحب کرسی کو ایک سائیڈ پر کر کے کھڑے ہو گئے، اور انہوں نے اعلان کیا

Teacher in the court, Teacher in the court

جیسے ہی یہ اعلان ہوا تو وہاں پر موجود تمام لوگ (منشی، تھانیدار، عمل دار) اٹھ کر کھڑے ہو گئے، اور جج صاحب نے حکم دیا کہ

Chair should be brought for the teacher, A teacher has come to the court

اب وہ چھوٹا سا کٹہرا اور مَیں اسے پکڑ کے کھڑا تھا، وہ کرسی لے آئے اور حکم ہوا کہ استاد کھڑا نہیں رہ سکتا، اور پھر جج صاحب نے کہنا شروع کیا کہ ’’اے معزز استاد! اے دنیا کو علم عطا کرنے والے استاد! اے محترم انسانیت! آپ نے ہی ہم کو عدالت کا، اور عدل کا حکم دیا ہے، آپ نے ہی ہمیں یہ علم پڑھایا ہے اور اسی وجہ سے ہم یہاں براجمان ہیں۔ اس لئے ہم آپ کے فرمان کے مطابق مجبور ہیں، عدالت نے جو ضابطہ قائم کیا ہے اس کے تحت ہم آپکو چیک کریں ، اس کے باوجود کہ ہم بڑے شرمندہ اور بے حد افسردہ ہیں کہ ہم ایک استاد، جس سے محترم اور کوئی نہیں ہوتا کا ٹرائل کر رہے ہیں۔ اور یہ ایک جج کیلئے انتہائی تکلیف دہ موقع ہے کہ عدالت کے کٹہرے میں ایک استاد ہو اور اسکا ٹرائل کیا جائے۔‘‘ اب مَیں اپنی جگہ پر شرمندہ ہو رہا تھا کہ یہاں کیا شروع ہو گیا ہے، میں نے کہا حضور جیسا بھی آپکا قانون اور ضابطہ ہے اسکے مطابق کریں مَیں حاضر ہوں۔

تو انہوں نے کہا کہ ہم نہایت شرمندگی کے ساتھ اور نہایت ہی افسردہ ہو کر اور بڑے غم کے ساتھ آپکو ڈبل جرمانہ کرتے ہیں۔ جرمانہ ڈیڑھ روپیہ ہو گیا تھا۔ اب جب میں کرسی سے اٹھ کر کٹہرے سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا تو عدالت کا سارا عملہ میرے پیچھے پیچھے چل رہا تھا، مَیں اندر سے کہوں کہ میری جان چھوڑیں، پتہ نہیں باہر نکل کر کیا کریں گے۔ وہ سب مجھے میری گاڑی تک چھوڑنے آئے اور جب تک میں وہاں سے چلا نہیں گیا، سب کھڑے رہے، اب میں واپس لوٹا تو مجھے معلوم ہوا کہ یا اللہ میں کتنا معزز آدمی ہوں، میں نے محلے والوں کو اور اپنی لینڈ لیڈی کو بتایا کہ عدالت میں میرے ساتھ یہ ہوا، میری لینڈ لیڈی تو محلے میں چوڑی ہو کر گھومنے لگی کہ دیکھو ہمارا ٹیچر کورٹ میں گیا اور اسکی اتنی عزت افزائی کی گئی۔

میں نے اپنے ریکٹر ( یونیورسٹی کا سربراہ) سے پوچھا کہ ایک ٹیچر کی اتنی عزت افزائی، ضرور میری تنخوا بھی بڑھے گی، تو اس نے کہا کہ نہیں یہاں ٹیچر کی تنخوا اتنی ہی ہے جتنی کہ پاکستان میں ہے، صرف یہ ہے کہ یہاں کوئی تاجر ہو، بیوروکریٹ ہو یا کوئی جج ہو سب ٹیچر کے پیچھے چلتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ روم کے زمانے میں غلام اپنے آقاؤں کے پیچھے چلتے تھے۔ مالی طور پر وہ بھی بے چارے تھے لیکن رتبے کے لحاظ سے اعلیٰ تھے، جیسے سقراط ننگے پاؤں کھڑا ہو کر بات کرتا تھا لیکن سب اس کی عزت اور قدر کرتے تھے۔

اشفاق احمد کی زاویہ سے اقتباس

Facebook Comments