قربِ الٰہی حاصل کرنے کیلئے نیت کا اچھا ہونا ضروری ہے

15اکتوبر2019

Intentions must be good in order to get closer to God!
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کسی جگہ تشریف لے جا رہے تھے، دورانِ سفر آپّ نے ایک چرواہے کو دیکھا جو اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے محوِ گفتگو تھا اور کہہ رہا تھا۔

اے اللہ تو کہاں ہے؟ تو میرے پاس آ تاکہ میں تیرا نوکر بن جاؤں، تیرے جوتے سی دوں، تیرے سر میں تیل ڈال کر تیری کنگھی کروں تو میرے پاس آ میں تیری خدمت کروں، تیرے کپڑے سی دوں تیرے کپڑے دھوؤں، تیرے سر سے جوئیں نکالوں تجھے بکریوں کا دودھ پلاؤں۔ اگر تو بیمار ہو جائے تو میں تیرا غم خوار بنو، تیرے پیارے پیارے ہاتھوں کو چوموں، تیرے نازک نازک پاؤں دباؤں، جب تیرے سونے کا وقت ہو تو تیرے لئے بستر سجاؤں۔ اے میرے اللہ تجھ پر میں اپنی جان قربان کر دوں، میرا گھر، دولت اور ساری بکریاں تجھ پر قربان، اگر مجھے پتہ چل جائے کہ تو کہاں رہتا ہے تو میں تیرے لئے روزانہ دودھ لے کر آؤں۔

نہ جانے بے خودی میں وہ اللہ سے کیا کیا باتیں کر رہا تھا جو کہ کسی صورت درست نہیں تھیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کی یہ باتیں سن کر بہت ناراض ہوئے اور سختی سے چرواہے سے مخاطب ہوئے ارے بیوقوف تیری یہ باتیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کفریہ کلمات ہیں، کیا تمہیں علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر طرح کی خدمت سے بے نیاز ہے۔ اے شخص تو نے جو باتیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہی ہیں اس پر توبہ کرو، ایسا نہ ہو کہ تم اللہ کی پکڑ میں آ جاؤ۔

چرواہے نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہائے افسوس میں نے انجانے میں یہ کیسی باتیں کہہ دیں لیکن میں تو اللہ کو یاد کر رہا تھا اور اپنی محبت کا اظہار کر رہا تھا، میں نہیں جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو میری خدمات کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کا محتاج ہے وہ تو ان سب باتوں سے بے نیاز ہے۔

چرواہے کے دل میں اللہ تعالیٰ کا اس قدر خوف طاری ہوا کہ اُس نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور روتا پیٹتا جنگل کی طرف بھاگ نکلا، ابھی وہ نکلا ہی تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل ہوئی کہ اے موسیٰ تو نے ہمارے بندے کو ہم سے جدا کر دیا وہ تو ہماری محبت میں ایسی باتیں کر رہا تھا وہ تو اپنے دل کی گہرائیوں سے ہمیں چاہتا تھا جس کا وہ اظہار بے خودی کے عالم میں کر رہا تھا مگر یہ کہ وہ علم نہیں رکھتا تھا، اس کا دل میری محبت سے سرشار تھا اور اس کی نیت اچھی تھی۔

اے موسیٰ میں نے تجھے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ مجھ سے میرے بندوں کو ملاؤ نہ کہ مجھ سے جدا کرو، اب جاؤ اور میرے بندے کو جنگل سے واپس لے کر آؤ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام حکمِ الہیٰ کے مطابق اسی وقت جنگل کی طرف بھاگے دوڑے اور چرواہے کو پا لیا، آپ نے اُسے مبارک دی اور کہا کہ تجھے اسی طریقہ پر مناجات کی اجازت دے دی گئی ہے، اب جو بھی محبت بھرے الفاظ تیری زبان پر آئیں تو کہتا رہ اس لئے کہ تیرا اللہ کے نزدیک بلند مقام ہے۔ اس حکایت کے آخر میں مولانا جلال الدین رومی فرماتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ انسان کی نیت اور اعمال کو دیکھتا ہے، ان کی پسندیدگی چہرے سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے ہے جس سے وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے۔

Facebook Comments