اگر جوڑوں کے درد سے نجات چاہتے ہیں تو ان غذاؤں سے تعلق توڑ دیجئے

15اکتوبر2019

If you want to relieve joint pain, disconnect from these foods!
اگر آپ جوڑوں کے درد یا سوجن کے مرض کا شکار ہیں تو آپ اپنے معالج کی ہدایت کے مطابق غذاؤں کا انتخاب کیجئے، اور اس بات کو یقینی بنائیے کہ آپ کھانے پینے کے معاملے میں احتیاط سے کام لیں گے۔

آپ روز مرہ کی اشیائے خوردونوش میں تھوڑی سی سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف جوڑوں کے درد سے چھٹکارہ پا سکتے ہیں بلکہ بہت زیادہ دواؤں کے استعمال سے بھی نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

شکر

سب سے پہلے اگر آپ میٹھے کے بہت زیادہ شوقین ہیں تو اس عادت کو ترک کیجئے کیونکہ میٹھی چیزوں کا استعمال آپ کو سوزش میں مبتلا کر سکتا ہے۔ شکر کا براہِ راست تعلق سوزش سے ہے، جسم میں جب پروٹینز اور دیگر چکنائیاں شکر سے ملتی ہیں تو جسم ایک اضافی چیز پیدا کرنے لگتا ہے جسے ایڈوانس گلیکیشن اینڈ پروڈکٹس کہا جاتا ہے۔ یہ جسم میں تکلیف دہ سوزش بڑھانے اور بڑھاپے کے جلد آنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اگر آپ اپنی روز مرہ کی خوراک میں میٹھے کے بے حد شوقین ہیں اور اس کے بغیر آپ کیلئے رہنا ناممکن ہے تو کوشش کیجئے کہ شکر کی بجائے گڑ اور شہد کو ترجیح دیں۔

مصنوعی مٹھاس

مصنوعی مٹھاس سے بھی پرہیز ایسے ہی ضروری ہے جس طرح شکر سے ضروری ہے۔ مصنوعی مٹھاس کے حوالے سے اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ یہ شکر کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کی جا سکتی ہے، لیکن یہ بات سراسر غلط ہے کیوں کہ مصنوعی مٹھاس مکمل طور پر لیبارٹری میں تیار کی جاتی ہے اور جسم اس مصنوعی مٹھاس کو غذا کے طور پر شناخت نہیں کر سکتا، اسی وجہ سے جب جسم پر مصنوعی مٹھاس کا حملہ ہوتا ہے تو وہ تکلیف دہ سوزش کے ذریعے اس خارجی عنصر کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسی سوزش سے آپ کو بچنا چاہیئے۔

اسپارٹیم سے نہ صرف سوزش کو تحریک ملتی ہے بلکہ یہ ان لوگوں کو بھی آرتھرائٹس میں مبتلا کر دیتی ہے جو پہلے اس بیماری سے محفوظ تھے۔

کافی

کافی کا نام سنتے ہی ایک اچھی صبح کا تصور ذہن میں ابھرنے لگتا ہے، یہ بات درست ہے کہ کافی کے بہت زیادہ فوائد بھی ہیں، لیکن مختلف ریسرچز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کافی پینے سے “ریوماٹوئڈ آرتھرائٹس” کا خطرہ کافی حد تک بڑھ جاتا ہے، کیونکہ کافی میں ایسے اجزاء بھی پائے جاتے ہیں جو جسم میں “ریوماٹوئڈ آرتھرائٹس” کو بڑھا دیتے ہیں۔ اگر اس خطرناک بیماری کے جراثیم آپ میں موجود ہیں تو آپ کیلئے بہتر یہی ہو گا کہ کافی کی بجائے چائے پینے کو ترجیح دیں۔

ڈیری مصنوعات

ڈیری مصنوعات میں ایسا پروٹین پایا جاتا ہے جو جوڑوں کے ارد گرد کے ٹشوز میں سوزش پیدا کر سکتا ہے، اگرچہ آرتھرائٹس کے مریضوں پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں ہوتا، لیکن بہتر یہی ہے کہ اس کے بارے میں پہلے جانچ پڑتال کر لیں۔ اگر ڈیری مصنوعات کے استمعال سے آپ کی تکلیف میں اضافہ نہیں ہوتا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن اگر مجبوری کے طور پر ڈیری مصنوعات چھوڑنا پڑے تو اس کی جگہ دالیں، مکھن، پھلیاں اور پالک وغیرہ سے غذائی قلت کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

اجینو موتو (نمک)

یہ ایک طرح کا نمک ہوتا ہے جو چینی کھانوں خاص طور پر سوپ، یخنی اور سالن وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس نمک کو عام طور پر اجینو موتو کے نام سے پکارا جاتا ہے، یہ نمک عام نمک کے مقابلے پانی کی بہت زیادہ مقدار جسم میں روک لیتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف جسم میں سوجن بڑھتی ہے بلکہ جگر کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ صحت پر اس نمک کے منفی اثرات کی وجہ سے اس کا استعمال بہت کم کر دیا گیا ہے بلکہ بعض ممالک میں تو اس پر پابندی بھی عائد ہے۔

جمنے والی چکنائی

آرتھرائٹس (جوڑوں کے درد) کے مریضوں میں چونکہ پہلے ہی امراضِ قلب کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اسی لئے انہیں چکنائی سے بھر پور چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے، جن میں چربی والا گوشت، فرائیڈ چکن، بیف برگر اور جنک فوڈز وغیرہ شامل ہیں، جمنے والی چکنائی جس خوراک میں بھی شامل ہو وہ دل سے لے کر جوڑوں تک ہر چیز کو بلا کر رکھ دیتی ہے۔

نمک

نمک کے بارے میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا استعمال کم کریں، نمک کی زیادتی کی وجہ سے جسم میں پانی زیادہ جمع رہتا ہے جس سے سوجن ہو جاتی ہے اور درد بھی بڑھنے لگتا ہے، اس کے علاوہ بلڈ پریشر کی سطح بھی بڑھنے لگتی ہے۔

ریفائن کاربو ہائیڈریٹس

سفید آٹے سے تیار شدہ روٹی کا استعمال آج کل بہت عام ہو چکا ہے جس سے بچنا بہت مشکل ہو چکا ہے، لیکن جو لوگ پروسیسڈ اناج کھاتے ہیں انہیں یہ بات پتہ ہونی چاہیے کہ اس سے دورانِ خون میں سائٹو کینز کی سطح بلند ہو جاتی ہے ان کیمیائی مادوں سے سوزش کا حملہ بھی تیز ہو جا تا ہے، اگرچہ آگ پر سینکی ہوئی غذائیں کافی مزے دار لگتی ہیں لیکن ان میں خاص غذائیت نہیں ہوتی جو اصل اناج میں ہوتی ہے۔

تمباکو

اگر آپ جوڑوں کے درد سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو تمباکو اور سگریٹ نوشی سے بھی پرہیز کریں، تمباکو اور سگریٹ استعمال کرنے والے افراد میں ریوماٹوئد آرتھرائٹس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اگر آپ کے جوڑوں میں درد رہتا ہے تو پہلی فرصت میں سگریٹ نوشی چھوڑ دیجئے۔

 

Facebook Comments