دنیا کی پہلی باقاعدہ ہوائی ڈاک سروس کیسے شروع ہوئی؟

15اکتوبر2019

How did the world's first regular airmail service get started?
دنیا کی پہلی ہوائی ڈاک سروس کا آغاز 25 دسمبر 1918ء کو ہوا جب ایک فرانسیسی صنعتکار نے فرانس کے شہر ٹولاؤس اور اسپین کے شہر بارسلونا کے درمیان باقاعدہ ہوائی ڈاک سروس کا آغاز کیا۔

ہوائی ڈاک سروس ابتدائی طور پر اتنی کامیاب رہی کہ جلد اس کا دائرہ کار مراکش، سینیگال اور لاطینی امریکہ تک پھیل گیا، فرانسیسی بزنس مین کی ایئر میل سروس کمپنی کا نام ایرو پوسٹیل تھا جس نے بعد میں دنیا کی بڑی بڑی ایئر لائنز کو ماہر پائلٹس بھی فراہم کئے۔

فرانسیسی صعنتکار پیری جارج لیٹ کور جو کہ ہوائی جہاز تیار کرنے کے کاروبار سے وابستہ تھا نے پہلی جنگِ عظیم کے بعد ایئر میل سروس بنانے کا سوچا تو اس کے ذہن میں ایک خصوصی طیارہ بنانے کا خیال بھی آیا۔ اس زمانے میں چونکہ ہوا بازی کے میدان میں اتنی ترقی نہیں ہوئی تھی، نہ تو جدید آلات تھے اور نہ ہی مشینری کا کوئی خاص تصور تھا۔

پائلٹ جہاز اُڑانے اور لینڈ کرنے کیلئے صرف اور صرف اپنی آنکھوں پر ہی بھروسہ کرتے تھے، حتیٰ کہ ان کیلئے کوئی علیحدہ کاک پٹ بھی نہیں ہوتا تھا، پائلٹس بھی عام مسافروں کی طرح بیھٹے ہوتے تھے فرق صرف اتنا ہوتا تھا کہ وہ سب سے آگے والی سیٹوں پر براجمان ہوتے تھے۔

پیری جارج نے ہوائی ڈاک کیلئے جو سب سے پہلا جہاز تیار کروایا تھا اُس میں دو انجن تھے اس خصوصی طیارے کا نام سالمسن تھا، دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ طیارہ پہلی ہوائی ڈاک لے کر اسپین کے شہر بارسلونا کیلئے روانہ ہوا تو پیری جارج خود بھی پائلٹ کی پچھلی نشست پربیٹھا ہوا تھا۔ ویسے تو 1911ء میں بھی طیارے کے ذریعے ڈاک لے جانے کا تجربہ کیا گیا لیکن اس میں تسلسل برقرار نہ رکھا جا سکا اور یہ سلسلہ جلد ہی بند ہو گیا۔

ٹولاؤس سے بارسلونا کیلئے جہاز نے اُڑان بھری، جہاز نے دو گھنٹے بیس منٹ میں اپنا سفر مکمل کیا، جہاز ڈاک کے لفافوں اور پارسلوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس پہلی ہوائی ڈاک کی پرواز کے نو ماہ بعد ستمبر 1919ء میں ایک اور جہاز فرانس سے مراکش ڈاک لے کر گیا۔ اس زمانے میں مراکش فرانس کی ایک کالونی ہوا کرتا تھا۔

ٹولاؤس سے رباط کے مابین ایک معاہدہ طے پایا جس کے مطابق ایک مہینے میں آٹھ پروازیں ڈاک لانے لے جانے لگیں۔

اکتوبر 1920ء کو کمپنی کا ایک طیارہ گر کر تباہ ہو گیا اور ساتھ ہی کمپنی اپنے دو قیمتی پائلٹس سے بھی محروم ہو گئ، آنے والے دنوں میں کمپنی کو مزید حادثات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اخبارات نے کمپنی کو اس تجربے پر پاگل پن اور غیر ضروری قربانیوں کا راستہ قرار دے دیا۔

ان سب باتوں کے باوجود کمپنی سنبھل گئی اور اپنی سروس کا دائرہ کار کاسابلانکا تک بڑھا دیا۔ 1923ء میں کمپنی کا نام تبدیل ہو چکا تھا اور ڈاک کی ترسیل کیلئے 100 طیارے بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ ڈاک ترسیل کرنے والے جہازوں میں تین ملین خطوط اور پارسلوں کے علاوہ 1344 جراتمند مسافر بھی سفر کر چکے تھے۔

اس زمانے میں افریقی ملک سینیگال بھی فرانس کا نو آبادیاتی تھا۔ کمپنی نے اس کے شہر ڈاکار تک ڈاک لے جانے کا شیڈول بنایا، اب اس شیڈول کے مطابق جہاز کو سینکڑوں میل کا سفر طے کرنا تھا، اس سفر کے دوران جہاز کو صحرا کے اوپر سے پرواز کرنا تھا، جہاں باغی مور قبائل آباد تھے، اس کا مطلب تھا کہ ڈاکار تک ڈاک لے جانے کیلئے دو جہازوں کی ضرورت تھی تاکہ اگر ایک جہاز کو زبردستی اتارنے کی کوشش کی جاتی تو دوسرا جہاز اس کے دفاع اور حفاظت کیلئے کچھ کر سکے۔

ان صحراؤں پر پرواز کے دوران کسی نے بھی ان جہازوں کو اتارنے کی کوشش تو نہیں کی تاہم ایک بار جہاز کو فنی خرابی کے باعث ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی، جہاں مور باغیوں نے جہاز کے پائلٹ جین میموز کو یرغمال بنا لیا، میموز کو بھاری تاوان کے عوض چند دنوں کے بعد رہا کر دیا گیا۔ اس واقعہ سے کمپنی کو تو اچھا خاصا نقصان برداشت کرنا پڑا لیکن جین میموز کو بے پناہ شہرت ملی۔

پیری جارج نے 1927ٰء کو کمپنی کو ایک اور بزنس مین کے ہاتھوں فروخت کر دیا، جس کا ہیڈ آفس لاطینی امریکہ میں تھا، اس نے کمپنی کا نام بدل کر وہی پرانا نام ایرو پوسٹیل رکھ دیا۔ کئی بحرانوں اور حادثات کے بعد کمپنی ایک بار پھر 1933ء میں بک گئی۔ اس بار جس گروپ نے اسے خریدا اس نے اس کا نام ایک بار پھر تبدیل کیا جسے دنیا آج ایئر فرانس کے نام سے جانتی ہے۔

Facebook Comments