پاکستان کا پہلا سپر اسٹار باؤلر! فضل محمود

24ستمبر2019

Fazal Mehmood

فضل محمود 18فروری 1927ء کو لاہور میں پیدا ہوئے، وہ ایک دراز قد اور منفرد شخصیت کے حامل وجیہہ انسان تھے، اپنے خوبصورت ہیئر اسٹائل اور نیلی آنکھوں کی بدولت اُنہیں ایک طلسماتی ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا تھا اسی وجہ سے اُنہیں ہولی ووڈ کے مشہور فلم اسٹار راک ہڈسن سے بھی مشا بہ سمجھا جاتا تھا۔

Fazal Mehmood
فوٹو ڈان

ہولی ووڈ کی شہرت یافتہ اداکارہ ایوا گارڈنر اپنی فلم ’’بھوانی جنکشن ‘‘ کی شوٹنگ کیلئے 1950ء میں لاہور آئیں تو اُنہوں نے ایک کلب میں فضل محمود کو دیکھا تو اُن پر فریفتہ ہو گئیں اور خواہش ظاہر کی کہ فضل محمود اُن کے ساتھ ڈانس کریں۔

Fazal Mehmood
فوٹو اسکور لائن

پاکستان کرکٹ ٹیم 1954ء میں انگلستان پہنچی جہاں ٹیم کی ملاقات ملکۂ برطانیہ سے ہونا تھی، ملاقات کے دوران جیسے ہی ملکہ کی نظر فضل محمود پر پڑی تو فوراًبول اُٹھیں کہ ’’آپ پاکستانی نہیں لگتے آپ کی آنکھیں نیلی کیوں ہیں؟‘‘

فضل محمود کو پاکستان کا پہلا سپر اسٹار کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، اُنہیں بچپن ہی سے کرکٹ سے بے حد لگاؤ تھا، اُنہوں نے محض تیرہ سال کی عمر میں اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا جہاں اُنکے والد محترم غلام حسین معاشیات کے پروفیسر تھے، اسی وجہ سے فضل محمود نے معاشیات کو ہی اپنا پسندیدہ مضمون بنایا اور ماسٹر ڈگری حاصل کی، تعلیم کے ساتھ ساتھ فضل محمود میدان میں بھی زورِ بازو دکھانے کا ہنر خوب جانتے تھے۔

اُنہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز17 سال کی عمر میں ناردرن انڈیا رانجی ٹرافی سے کیا اور زبردست بولنگ سے جھنڈے گارڈ دئیے۔

فضل محمود کو پہلی بار پندرہ برس کی عمر میں کالج کی طرف سے کھیلنے کا موقع ملا، اُنہوں نے انٹر کالج فائنل میں 13 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں ، جو انٹر کالجیٹ کرکٹ کا ریکارڈ تھا، اپنے کرئیر کے پہلے میچ میں سدرن پنجاب کے خلاف آخری نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے اُنہوں نے شاندار 38 رنز اسکور کئے اور ناٹ آؤٹ رہے ،اُنہوں نے اپنے بولنگ کریئرکی پہلی وکٹ بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان لالہ امرناتھ کو آؤٹ کر کے حاصل کی تھی۔

Fazal Mehmood Lala Amarnath
سابق بھارتی کرکٹر لالہ امرناتھ کے ساتھ

دائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے فضل محمود کی رفتار اگرچہ شعیب اختر اور وسیم اکرم کی طرح زیادہ نہیں تھی لیکن اُنہوں نے سوئنگ کے جادو سے دنیا بھر کے بیٹسمینوں کو مشکلات سے دوچارکئے رکھا، فضل محمود کو اپنے دور میں خان محمد اور محمود حسین جیسے باؤلرز کا بھی ساتھ رہا تاہم وہ اکیلے ہی میچ جتوانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

پاکستان کی محبت میں سرشار فضل محمود کو 1948ء میں ہندوستان کی جانب سے دورۂ آسٹریلیا کیلئے نامزد کیا گیا تاہم اُنہوں نے کھیلنے سے انکار کردیا، قیام پاکستان کے بعد فضل محمود نے پاکستان کو ٹیسٹ کا درجہ دلوانے کیلئے اہم کردار ادا کیا، ٹیسٹ اسٹیٹس ملنے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان عبد الحفیظ کاردار کی قیادت میں پاکستان کو کئی شاندار فتوحات دلوائیں۔

فضل محمود نے پاکستان کی جانب سے 34 ٹیسٹ میچز میں 139 وکٹیں حاصل کیں اُنکا فی وکٹ بولنگ اوسط 24.70 رنزتھا، وہ پاکستان کے پہلے کرکٹر تھے جنہوں نے سب سے پہلے سو وکٹوں کا سنگ میل محض 22 ٹیسٹ میچز میں عبور کیا، اُنہوں نے چار مرتبہ دس دس وکٹیں حاصل کیں۔

Fazal Mehmood
فوٹو گیٹی امیجز

پاکستان نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ بھارت کے خلاف نئی دہلی کے کوٹلہ فیروز شاہ اسٹیڈیم میں کھیلا، بدقسمتی سے پاکستان یہ میچ ایک اننگز اور 70 رنز سے ہار گیا، لیکن پاکستان کی پہلی جیت فضل محمود کی ہی مرہون منت ہے، بھارت کے ساتھ ہوم سیریز میں پہلے میچ کی شکست کے بعد پاکستان نے زبردست کم بیک کیا اور نئی دہلی کی ہار کا بدلہ لے لیا، فضل محمود نے پہلی اننگزمیں 52 رنز دیکر پانچ جبکہ دوسری اننگز میں 42 رنز دے کر سات وکٹیں اپنے نام کیں، مضبوط بیٹنگ لائن کے باوجود بھارت کو ایک اننگز اور 43 رنز سے شکست ہوئی۔

یہ 17 اگست 1954ء کا دن تھا پاکستانی ٹیم اوول کے میدان سے ڈریسنگ روم کی طرف لوٹ رہی تھی اور فضل محمود سب سے آگے تھے، برطانوی اخبارات نے اُن کی شاندار بولنگ کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دئیے، فضل محمود نے انگلینڈ سے یقینی فتح چھین کر عالمی کرکٹ کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی، چھ فٹ دو انچ کے نیلی آنکھوں والے حسین نوجوان فضل محمود انگلش بیٹنگ لائن پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے، اُنہوں نے 46 رنز کے عوض 6وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کی شکست کو جیت میں بدل دیا،اس میچ میں انگلینڈ 168 رنز کے ہدف میں 143 رنز پر ہمت ہار گیا اور جیت فضل محمود کی وجہ سے پاکستان کا مقدر ٹھہری۔

اوول میں ناقابلِ یقین کارکردگی پر اُن کا نام ’’وزڈن ‘‘ (کرکٹ کی مقدس کتاب) نے سال کے پانچ بہترین کھلاڑیوں میں شامل کیا ۔

Fazal Mehmood
فوٹو گیٹی امیجز

آسٹریلیا نے اکتوبر 1956ء میں پاکستان کا دورہ کیا، پہلی اننگز میں فضل محمود اور خان محمد کی تبا ہ کن باؤلنگ کی بدولت آسٹریلوی ٹیم 80 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی، فضل نے 34 رنز دے کر 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ خان محمد کو چار وکٹیں ملیں، دوسری اننگز میں فضل محمود نے 80 رنزدیکر 7 وکٹیں حاصل کیں، فضل محمود نے پہلی بار کسی بھی میچ میں 13 وکٹیں لیں اور پاکستان نے اس میچ میں 9وکٹوں سے شاندار فتح اپنے نام کی۔

عبد الحفیظ کاردار کے بعد کچھ عرصہ تک پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کی بھاگ دوڑ بھی سنبھالی،1959ء سے 1961ء کے قلیل وقت میں اُنہوں نے دس ٹیسٹ میچوں کی قیادت کی، جن میں سے دو میچ جیتے اور ایک ہارا باقی بے نتیجہ رہے۔

ویسٹ انڈیز جو اس زمانے میں ایک خطرناک ٹیم تصور کی جاتی تھی، 1959ء میں ڈھاکا میں فضل محمود کی قیادت میں پاکستان نے کالی آندھی کا رخ موڑ دیا،ویسٹ انڈین ٹیم پہلی اننگز میں محض 36اوورز میں 76 رنز پر ڈھیر ہوگئی، جس میں فضل محمود نے 34 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ دوسری اننگزمیں بھی فضل نے 66 رنز دیکر 6 وکٹیں اپنے نام کیں ، پاکستان نے یہ میچ 41 رنز سے جیت لیا۔

فضل محمود 1961ء میں بھارت کے شہرحیدر آباد دکن کے دورے پر تھے ، وہاں ایک سائیڈ میچ کے دوران اُنہوں نے ایک نوجوان کو کہا کہ تم پاکستان چلے جاؤ بھارت میں تمہیں شائد کھیلنے کا موقع نہ مل سکے حالانکہ اُس کرکٹر کے ماموں غلام احمد بھارت کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کھیل چکے تھے، وہ نوجوان اپنے خاندان کے ساتھ کراچی منتقل ہوگیا جسے دنیا آج آصف اقبال کے نام سے جانتی ہے، آصف اقبال نے ون ڈے اور ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

فضل محمود پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر رہے اور کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے ساتھ ساتھ پولیس کی ملازمت بھی کی، 1947ء میں لاہور پولیس میں انسپکٹر کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی بعد ازاں اُنہیں 1952ء میں ڈی ایس پی کے عہدے پر ترقی ملی، جبکہ 1976ء میں ڈی آئی جی بن گئے۔

Fazal Mehmood
فوٹو ڈیلی ٹائمز پاکستان

فضل محمود 30 مئی 2005ء کو لاہور میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے، دنیائے کرکٹ کا یہ عظیم ستارہ 78 برس کی عمر میں جہانِ فانی کو چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہم سے جدا ہو گیا لیکن وہ آج بھی اپنی سحر انگیز شخصیت اور جادوئی بولنگ کی وجہ سے شائقینِ کرکٹ کے دلوں میں زندہ ہے۔

Fazal Mehmood
فوٹو ڈان
Facebook Comments